کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم پر مشتمل کتب پڑھنے کا شوق رکھتا ہے ، انہیں سمجھنے ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے ، ان دنوں میرے زیر ِ مطالعہ کتاب جس کا نام سیرت حلبیہ ہے ، جو کہ علامہ علی ابن برہان الدین حلبی کی تحریر شدہ ہے ، اور اس کا اردو ترجمہ علامہ مولانا محمد اسلم قاسمی مدظلہ علیہ نے کیا ہے ، کتاب کے صفحہ نمبر ۳۸۳ پر موجود تحریر پڑھ کر میں ششدر ہوں اور میرے ذہن میں چند ایک سوالات ہیں جن پر علماء حق سے رہنمائی کا طلب گار ہوں ، کیا فرماتے ہیں علماء اکرام بیچ اس مسئلے کے :
سوال نمبر 1 -کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں ایسا ہونا کتب احادیث اور سنت مبارکہ سے ثابت ہے؟
سوال نمبر 2 - کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ذاتِ پاک کے بارے میں ایسے الفاظ لکھنا، چھاپنا یا تحریر کرنا گستاخانہ
مواد (Blasphemous Material) کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ کتاب کا ٹائٹل اور صفحہ نمبر 383 کا عکس سوال نامہ کے ساتھ لف کیا جارہا ہے ) ۔
سائل نے سیرت حلبیہ کے " تیسری قسم اور خصوصی جواز " کے عنوان کے تحت جس اقتباس کا حوالہ دیا ہے ، اس اقتباس کا پہلا حصہ صحیح احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ، چنانچہ صحیح بخاری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم روزے کی حالت میں اس کا بوسہ لیا کرتے تھے ، اسی طرح اس اقتباس کے آخری حصے کا ذکر بھی مسند احمد کی روایت میں موجود ہے ، اس روایت پر اگر چہ اہل علم نے کلام کیا ہے ، لیکن میاں بیوی کا روزے کی حالت میں ایک دوسرے سے بوسہ لینا جب انہیں اپنے اوپر کنٹرول حاصل ہو ممنوع نہیں ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم میں چونکہ یہ بات بدرجہ اتم موجود تھی اس لئے روزے کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنے ازواج مطہرات کے بوسے لینے پر شکوک و شبہات میں پڑنا قطعاً درست نہیں ، جبکہ سائل نے مذکور کتاب کے جس دوسرے اقتباس کا ذکر کیا ہے ، اس کے متعلق اگر چہ محدثین اور اہل علم نے کلام کیا ہے لیکن قرآن مجید کی آیاتِ مبارکہ سے اشارۃً اس کا ذکر ملتا ہے ، اس لئے ایسی تحریر کو گستاخی کے زمرے میں داخل نہیں کیا جا سکتا ۔
کما قال اللہ تعالی : يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ (إِلَى قَوْلِه تَعَالَى ) وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ( سورة الأحزاب ، الأية : 50)-
وقال الله تعالى أيضا : وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا ( سورة الأحزاب ، الأية : 37)-
وقال الله تعالى أيضا : وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى . إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ( سورة النجم ، الأية : 3-4 )-
و في تفسير ابن كثير : قوله : {فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها} : الوطر: هو الحاجة والأرب، أي : لما فرغ منها، وفارقها، زوجناكها، وكان الذي ولي تزويجها منه هو الله، عز وجل، بمعنى : أنه أوحى إليه أن يدخل عليها بلا ولي ولا مهر ولا عقد ولا شهود من البشر . ( ج 6 ، ص 425 ، ط : دار طيبة للنشر والتوزيع )-
و في صحيح البخاري : عن أم سلمة قالت : « أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقبلها وهو صائم ( باب النوم مع الحائض وهي في ثيابها ، ج 1، ص 81 ، رقم : 322 ، ط : السلطانية، مصر)-
في مسند أحمد : عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقبلها وهو صائم، ويمص لسانها . (مسند الصديقة عائشة ، ج 41 ، ص 398 ، رقم : 24916 ، ط : مؤسسة الرسالة )- وقد ضعفه الحافظ في الفتح (ج 1، ص 153 ، ط : المكتبة السلفية،مصر)-
وقال الشيخ شعيب الأرنؤوط في تحقيق مسند أحمد (24916 ) : حديث صحيح دون قوله : "ويمصُّ لسانها"، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار، قال ابن حبان في "المجروحين": الإنصاف في أمره تركُ الاحتجاج بما انفرد . قلنا : وقد انفرد بلفظة : "ويمصُّ لسانَها" . (مسند الصديقة عائشة ، ج 41 ، ص 398 ، ط : مؤسسة الرسالة)-
وفي الفتاوى الهندية : ولا بأس بالقبلة إذا أمن على نفسه من الجماع والإنزال ويكره إن لم يأمن والمس في جميع ذلك كالقبلة كذا في التبيين . (كتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره ، ج 1 ، ص 200 ، ط : دار الفكر،بيروت)-
حضورﷺ سے چاندی کی انگوٹھی اور نگینہ کا استعمال ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آنحضرتؐ اور حضرت علیؓ کی نمازِ جنازہ اور تدفین سے متعلق تفصیل
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0آپؐ نور ہے یا بشر؟ اور ’’الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ ‘‘ کہنا
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 1کیا نبی کریم ﷺ نے معراج میں تمام مراحل براق سواری سے طے کۓ ؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0حضورِ اکرم ﷺ سے زندگی میں کبھی کوئی نماز قضاء ہوئی ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 0