کسی نے اپنی زندگی میں بیوی کو سونا وغیرہ بنا کر دیا ہو جو مہر کے علاوہ ہوتو شوہر کے انتقال کے بعد آیا انکی بھی تقسیم ہوگی وراثت میں ؟ نیز کن کن چیزوں میں وراثت ہوگی کن کن پر نہیں ؟
واضح ہوکہ اگر شوہر مہر کے علاوہ کچھ سونا اپنی بیوی کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ گفٹ کردے، محض استعمال کے لئے نہ دے تو وہ سونا بیوی کی ملکیت بن جاتا ہے، چنانچہ اب وہ سونا شوہر کے انتقال کی صورت میں ورثاء میں تقسیم نہیں ہوگا، البتہ اس کے علاوہ مرحوم اپنی ذاتی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات نقدرقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان چھوڑ جائے، وہ سب مرحوم کا ترکہ شمار ہوکر ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (و تتم) الھبۃ بالقبض الکامل (و لو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولاً بہ) (کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔
کما فی رد المحتار: لأن التركه فی الاصطلاح ما ترکہ الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال الخ(کتاب الفرائض، ج6،ص759،ط: سعید)۔