میرے والد صاحب نے مبلغ 55,000,000 ( پانچ کروڑ پچاس لاکھ روپے) کا گھر بیچا ہے ، ہم دو بہنیں اور دو بھائی ہیں جس میں سے مبلغ 60,00,000 ( ساٹھ لاکھ روپے) قرضہ مبلغ 500,000 ( پانچ لاکھ روپے کمیشن اور مبلغ 400,000 چار لاکھ روپے ٹیکس دے دیا ہے۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے برابر حصہ دینا ہے اور 02 بچوں کی شادی کا خرچہ بھی کرنا ہے جو مبلغ اسی لاکھ،80,00,000 روپے بنتے ہیں ،کیا برابری کے باوجود شادی کا خرچہ دینا بنتا ہے؟ جبکہ میرے والدین نے سازش کر کے مجھے گھر سے نکالا ہے جبکہ باقی سب ساتھ ہیں۔ مجھے حصہ دینے کے بعد والد صاحب نے ہی گھر کا نظام چلایاجبکہ میں نے اپنے گھر کا نظام از خود چلایا ہے تو اس میں برابری کیسے ہوئی ،میرا دکان کے سرمائے میں % فیصدی حصہ تھا جس کا نفع مبلغ 60,80,000 ساٹھ لاکھ اسی ہزار روپے ) بنا تھا، جو ابھی تک مجھے نہیں ملا جس وقت میرا نفع چھینا تھا اس وقت روٹی 7 روپے کی تھی اب روٹی 30 کی ہے میں انتہائی طور پر تنگ آکر آپ کی رہنمائی چاہتا ہوں کہ میرا نفع مجھے موجودہ ویلیو کے حساب سے لے کر دیں اور جب تک مجھے میرا نفع نہیں ملتا اس وقت تک میں اس دکان کی ہر قسم کی انکم ان سب پر حرام کرتا ہوں ،اور یہ سب میں اللہ پاک کو گواہ بنا کر بول رہا ہوں۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کےوالد نے اس کی کمائی کس طرح چھین لی اور یہ کہ سائل اپنے والد کے ساتھ مشترکہ گھر اور کاروبار میں ساتھ رہ رہا تھا یا دونوں کا کاروبار الگ الگ تھا تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر وہ شخص اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیم ِترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ ہے ، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ شخص اپنی بقیہ زندگی اور دیگر متعلقہ ذمہ داریوں (بچوں کی شادی بیاہ وغیرہ)کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد ( بیٹوں اور بیٹیوں ) میں برابر تقسیم کر کے ہر فرد کو اسکے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست ہو جائے ، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں ، تاہم اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اسکی بھی اجازت ہے مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے ،لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کے والد کا اپنی اولاد کی شادی کے لئے کچھ رقم الگ کرکے باقی رقم اپنی اولاد میں برابر تقسیم کرنا شرعاً جائز عمل ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، سائل کو چاہیئے کہ اپنے اس جذباتی رویہ اور طرز عمل سے باز آکر اپنے والد سے مکمل احترام سے پیش آئے۔
کما فی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ، ص 127 ، ط : سعید ) ۔
و فی البحر الرائق : یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ ( الی قولہ ) و فی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثیٰ فی الھبۃ الخ ( کتاب الھبۃ ج 7 ، ص 288 ، ط : ماجدیہ ) ۔
و فی الھندیۃ : و لو وھب رجل شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض ( الی قولہ ) لاباس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل ما یعطی للابن و علیہ الفتوٰی الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 391 ، ط : ماجدیہ )۔
و فی رد المحتار : و لو وھب شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفۃ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل الدین ( کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 444 ، ط : سعید ) ۔
و فی الدر المحتار : ( و تتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔