السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!
ہماری مسجدمیں فجر کی جماعت طلوع آفتاب سےپچیس سے تیس منٹ قبل ہوتی ہے اکثر پہلا نمازی جماعت کے وقت سے دس پندرہ منٹ قبل مسجد میں آتا ہے اورلاؤڈاسپیکر کے بغیر ہی اذان دیتا ہے اس لئے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ یہ تو اتنی تاخیر سے اذان دے رہے ہیں مندرجہ بالاوقت میں لاؤڈاسپیکر پر اذان دینے میں شرعاً قباحت تو نہیں ؟
اگر کبھی کھبار اذان مقررہ معروف وقت پر نہ دی جائے اور اس میں تاخیر ہو جائے جسکی وجہ سے لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے سے لوگوں کے تشویش میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو لاؤڈ اسپیکر کے بغیر اذان دینے میں کوئی حرج نہیں ، تاہم اذان کی اغراض میں چونکہ لوگوں کو نماز کے وقت داخل ہونے کی اطلاع دینا بھی ہے ، اس لئے بر وقت بلند آواز سے یا لاؤڈ اسپیکر میں اذان دینے کا اہتمام کرنا چاہئیے ۔
کما فی الھندیۃ: وينبغي أن يؤذن على المئذنة أو خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد كذا في فتاوى قاضي خان اھ (کتاب الصلاۃ ج 1 صـ 55ط: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار: (والمستحب) للرجل (الابتداء) في الفجر (بإسفار والختم به) هو المختار بحيث يرتل أربعين آية ثم يعيده بطهارة لو فسد. وقيل يؤخر حدا؛ لأن الفساد موهوم الخ (کتاب الصلاۃ ج 1 صـ 366 ط:سعید)
وفی رد المحتار: تحت (قوله: حتى يبرد به) بالبناء للمجهول، وأشمل منه قوله المار في الأوقات، وحكم الأذان كالصلاة تعجيلا وتأخيرا اھ (کتاب الصلاۃ ج 1 صــ 384 ط:سعید)