السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ لاہور ڈیفینس ایک ہاؤسنگ ادارہ ہے، ادارے نے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے واٹر میٹر نصب کیے ہیں، اس کی قیمت فی گھر وصول کر رہے ہیں، نقد پر 50000 روپے اور ادھار پر 66000 روپے ماہانہ اقساط کے ذریعہ وصول کر رہے ہیں۔ ادھار کا ریٹ زیادہ لگانا کیا سود ہے؟ گذارش ہے کہ نقد و ادھار کے ریٹ کا فرق پورے ملک کی مارکیٹوں میں رائج ہے۔ وضاحت فرما دیں،شکریہ!
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں، البتہ اتنی بات ذہن نشین رہے کہ نقد خریداری کے مقابلہ میں ادھار زیادہ قیمت پر کوئی چیز فروخت کرنا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:
1. مجلسِ عقد میں طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا
2. ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے
3. یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہونگی
4. کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو،
چنانچہ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے نقد کے مقابلہ میں قسطوں پر زیادہ قیمت میں فروخت کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما قال اللہ تعالی: وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا الآیۃ (آیتـ 275 سورۃ البقرۃ)
وفی الدر المختار: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع الخ (کتاب البیوع ج 4 صـ 531ط: سعید)-
وفی فقہ البیوع: وکما یجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعۃً واحدۃً ، کذلک یجوز ان یکون اداء الثمن بأقساط، بشرط أن تکون آجل الأقساط ومبالغھا معینۃ عند العقد ، وقد یسمی " البیع بالتقسیط" الخ (المبحث الخامس ج 1 صـ 539 ط: معارف القرآن)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1