السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیفیت: سسر جی نے اپنی بہو کے ساتھ غیر اخلاقی حرکت کی جس کی عکاسی بھی موجود ہے، عکاسی میں سُسر جی اپنی بہو کو اپنے پاس بلاتا ہے، اور اپنی بہو کے ہونٹوں پر بوس و کنار کرتا ہے، پھر بہو اپنے سسر جی کے ہونٹوں سے بوس و کنار کرتی ہے،اس کے بعد سسر جی اپنی بہو کو اپنے سینے پر لٹاتا ہے، اور اس کی کمر پر ہاتھ ڈال کر بہو کو دباتا ہے، پھر سسر تین مرتبہ بہو کے ہاتھ کو اپنی شرم گاہ پر لگاتا ہے، اور پھر بہو خود اپنی رضا مندی سے چار مرتبہ کپڑے کے بغیر سسر کی شرم گاہ (عضو تناسل) کو سہلاتی ہے (اس عمل میں کپڑا حائل نہیں ہے) اس دوران سسر اپنی بہو کی چھاتی (پستان) کو بھی دباتا ہے(سسر کے ہاتھ اور بہو کے پستان کے درمیان کپڑا حائل نہیں ہے) پھرکسی آواز کے ڈر سے بہو اور سسر دونوں علیحدہ ہو جاتے ہیں، توجہ فرمائیں، آٹھ گواہ موجود ہیں کہ بہو نے دیور کو بھی زنا کی طرف مائل کیا ہوا ہے، سوال: کیا بہو کا بیٹے سے نکاح ٹوٹ چکا ہے؟
نوٹ: سائل سے بذریعہ موبائل فون معلوم ہوا کہ شوہر بھی اس واقعہ کے رونما ہونے کی تصدیق کرتاہے۔
واضح ہوکہ فقط ویڈیو ریکاڈنگ شرعاً حجت نہیں کہ جس کی بنا پر فیصلہ نافذ کیا جاسکے، ہاں ! دوران تفتیش بطور معاون اس سے ضرور مدد لی جاسکتی ہے، چنانچہ اس مختصر تمہید کے بعدسائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس طور پر کہ اسمیں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اور سسر اور بہوکے درمیان واقعۃً بوس وکنار اور مس بالشہوہ جیسے ناجائز تعلقات پائےگئے ہوں، اور مذکور عورت کا شوہر بھی اس واقعہ کی تصدیق کرتا ہو،تو ایسی صورت میں مذکور شخص کی بہو اس کے بیٹے پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی ہے، جس کے بعد دونوں کے لئے ساتھ رہنےکی اب کوئی صورت بھی ممکن نہیں، لہذا میاں بیوی دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، اور شوہر کو چاہیئے کہ الفاظ متارکت "میں نے تمہیں چھوڑدیا وغیرہ" کہہ دے، تاکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو۔
کما قال اللہ تعالی: وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معروفا واتبع سبیل من اناب الی ثم الی مرجعکم فانبئکم بما کنتم تعملون۔الآیۃ(سورۃ القمان/15)۔
وفی الھندیۃ: فمن زنی بامراۃ حرمت علیہ امھا وان علت وبنتھا وان سفلت وکذا تحرم المزنی بھا علی آباء الزانی واجدادہ وان علوا وابنائہ وان سفلوا کذا فی فتح القدیر الخ(ج1 صـ274 الباب الثالث فی بیان المحرمات القسم الثانی المحرمات بالصھریۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضاً: والمتارکۃ فی الفاسد بعد الدخول لاتکون الا بالقول کخلیت سبیلک او ترکتک ومجرد انکار النکاح لایکون متارکۃ اما لو انکر وقال ایضا اذھبی وتزوجی کان متارکۃ لکن لاینقص من عدد الطلاق الخ (ج1 صـ330 الباب الثامن فی النکاح الفاسد واحکامہ ط: ماجدیۃ)۔
وفی رد المحتار: في الفيض: ولو قام إليها وعانقها منتشرا أو قبلها، وقال لم يكن عن شهوة لا يصدق، ولو قبل ولم تنتشر آلته وقال كان عن غير شهوة يصدق وقيل لا يصدق لو قبلها على الفم وبه وقال يفتى. اهـ فهذا كما ترى صريح في ترجيح التفصيل، وأما تصحيح الإطلاق الذي ذكره الشارح، فلم أره لغيره نعم قال القهستاني: وفي القبلة يفتى بها أي بالحرمة ما لم يتبين أنه بلا شهوة ويستوي أن يقبل الفم أو الذقن أو الخد أو الرأس، وقيل إن قبل الفم يفتى بها، وإن ادعى أنه بلا شهوة، وإن قبل غيره لا يفتى بها إلا إذا ثبتت الشهوة. اهـ وظاهره ترجيح الإطلاق في التقبيل لكن علمت التصريح بترجيح التفصيل تأمل الخ (ج3 صـ36 کتاب النکاح فصل فی المحرمات ط: سعید)۔
کما فی الھندیۃ: رجل تزوج امرأة على أنها عذراء فلما أراد وقاعها وجدها قد افتضت فقال لها: من افتضك؟ . فقالت: أبوك إن صدقها الزوج؛ بانت منه ولا مهر لها الخ (ج1 صـ276 کتاب النکاح القسم الثاني المحرمات بالصهرية ط: دار الفکر)۔