السلام علیکم ، شاہ صاحب ! میری بیوی سے پہلے میری لڑائی ہوتی تھی ، غصے میں آ کر میں نے عدالت سے ایک طلاق کا نوٹس بھی دیا تھا ، اس کے بعد ہماری 5 دن کے اندر صلح ہو گئی تھی ، اُدھر حلفیہ بیان دیکر میں اپنی بیوی کو گھر لے آیا تھا ، اس کے بعد 4 مہینے بعد پھر لڑائی ہوئی ، غصے میں آکر تین دفعہ منہ سے طلاق دیدی ، کیا اب ہم دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں؟
نوٹ : بذریعہ فون معلوم ہوا کہ پہلی مرتبہ لڑائی کے بعد بھیجے ہوئے نوٹس میں ایک طلاق فوراً اور صلح نہ ہونے کی صورت میں دوسرے مہینہ میں دوسری طلاق اور تیسرے مہینہ میں تیسری طلاق واقع ہوگی ، جبکہ آخری لڑائی میں طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ " میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی۔
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ، اسی طرح تحریری طور پر بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا مذکور طلاق نامہ پر سائن کرنے سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی تھی اور اس کے بعد اگر دورانِ عدت رجوع کر لیا تھا تو یہ رجوع کرنا بھی صحیح تھا ، البتہ حالیہ لڑائی میں سائل نے جب اپنی بیوی کو " میں نے تجھے طلاق دی" کا جملہ تین مرتبہ کہہ دیا تو اس سے سائل کی بیوی پر باقی دو طلاقیں بھی واقع ہوکر مجموعی طور پر تینوں طلاقوں کے ذریعہ حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اور چوتھی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ سائل کی بیوی ایّام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے -
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تحقق کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ زوجِ اول دوبارہ اسکے ساتھ عقدِ نکاح کرے ، یہ مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ ( سورة البقرة ، الأية : 230)-
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي، ج 2 ، ص 1243 ، رقم : 2639 ، ط : البشرى )-
و في سنن أبي داود : عن علي رضي الله عنه، قال إسماعيل: وأراه قد رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لعن الله المحلل، والمحلل له ( باب في التحليل ، ج 2 ، ص 227 ، رقم : 2076 ، ط : المكتبة العصرية، بيروت)-
و في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( فصل وأما حكم البائن ، ج 3 ، 187 ، ط : سعيد)-
و في الفتاوى الهندية : وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو. ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة الخ ( الفصل السادس في الطلاق بالكتابة ، ج 2 ، ص 255 ، ط : رشيدية)-
وفي الفقه الإسلامي وأدلته : والبائن بينونة كبرى: هو الذي لا يستطيع الرجل بعده أن يعيد المطلقة إلى الزوجية إلا بعد أن تتزوج بزوج آخر زواجاً صحيحاً، ويدخل بها دخولاً حقيقياً، ثم يفارقها أو يموت عنها، وتنقضي عدتها منه. وذلك بعد الطلاق الثلاث حيث لا يملك الزوج أن يعيد زوجته إليه إلا إذا تزوجت بزوج آخر . ( ج 9، ص 6956 ، ط : دار الفكر، سورية ، دمشق)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0