السلام علیکم!میرے والد سنار ہیں۔ انکا ابتدائی طور پر زیورات کی کاسٹنگ کا کام تھا۔ پھر انہوں نے سرمایا جمع کر کے 1 دکان خریدی اور اس میں مال ڈال کر مجھے بٹھایا۔ والد اور میرے درمیاں کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ والد نے اپنا سرمایہ بڑھانے کے لیے دکان کھولی تھی اور مجھے مالک نہیں بنایا تھا۔ میں نے 10 سال دکان چلائی اور سرمایا بڑھایا۔ اب میرا مطالبہ ہے کے میری محنت کے بدلے مجھے نفع کا 20 فیصد حصہ دیا جائے۔ کیا یہ مطالبہ جائز ہے؟ یا پورا نفع والد کا ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ
سوال میں ذکر کردہ بیان کے مطابق اگر سائل نے اپنے والد کی مذکور دکان میں کسی قسم کی کوئی ذاتی سرمایہ کاری نہیں کی تھی اور نہ ہی دکان کھولتے وقت دکان پر اپنی محنت کے عوض کسی قسم کی شراکت داری یا پھر اجارے کا معاملہ طے کیا تھا ، تو ایسی صورت میں سائل اپنے والد کی مذکور دکان میں صرف معاون شمار ہوگا، اور کاروبار میں لگے تمام سرمایہ اور نفع نقصان کامالک اس کے والد کو ہی سمھجا جائیگا ،لہذا سائل کے لئے والد کے کاروبار میں محنت کے عوض نفع کا 20 فیصد منافع کی مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ، تاہم اگر والد اپنے کاروبار کو اس نہج پر پہچانے والے بیٹے کو خوش دلی سے اس کے مطالبہ کے مطابق یا کچھ کم وبیش دیکر اسکی دلجوئی کرے تو ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست بلکہ باعث اجر اور ثواب ہوگا، چنانچہ ایسا ہی کرنا چاہیئے ۔
کما فی تنقیح الحامدیۃ: وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يضع فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك الخ(ج 2 ص 18 ط:دار المعرفہ)۔
’این ،جی، اوز کاغریب و نادار لوگوں یا کسی مصیبت زده و پسماندہ علاقہ کے باشندوں کی مدد کرنا،اور ان کے ساتھ معاونت کرنا
یونیکوڈ 0