جناب محترم مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ !
سلام کے بعد عرض ہےکہ آپ سےمسئلہ کے بارے میں پوچھنا ہے، امید ہے آپ ہماری راہ نمائی فرمائیں گے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے سات (۷) اولاد ہیں، جن میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے تمام اولاد شادی شدہ ہے آخری چھوٹے بیٹے کی شادی کو بھی 20 سال ہو چکے ہیں، اور ہر ایک کا اپنا اپنا گھر ہے ، ایک عمارت جو کہ پانچ منزل ہے، جس کی زمین میرے شوہر کے نام پر ہیں، نیچے والی منزل ہم میاں بیوی نے خود اپنے لئے بنائی ہیں ،اور اوپر کی چار منزل میرے بیٹوں نے اپنے لئے الگ الگ بنائی ہیں، مگر ہم میاں بیوی نے بھی امداد، اور تعاون کیا ہے اور شادی اور تعلیم بھی ہم دونوں نے بڑی ذمے داری سے اپنے خرچوں پر کروائی ہیں، پانچویں منزل میرے چھوٹے بیٹے کی ہے ، میرے شوہر کے چار سال مرنے سے پہلے ہم دونوں میاں بیوی اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہے، اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے میرے دو گھر اس کے علاوہ بھی ہیں، جن کا کرایہ آتا ہے ، اور ہم کو خدا نے اتنی آمدنی دی تھی کہ ہم کسی اولاد پر خرچے کا بوجھ نہ بنے ، میرے شوہر کی خواہش تھی کہ ہم ایک دینی مدرسہ اپنے نیچے والے گھر میں کھولیں میرے شوہر کی زندگی میں مدرسہ نہ بن سکا، اور نہ وسائل تھے مگر میرے بیٹے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے ،اور میرا چھوٹا بیٹا تبلیغ میں ایک سال کے لئے امریکہ گیا ہوا تھا، اور مدرسہ اُس کے آنے پر کھولنا تھا، مگر اس کے آنے پر میرے شوہر پر فالج کا اٹیک ہو گیا، اور اُن کا انتقال ہو گیا ،اور شوہر کے انتقال کے ایک سال بعد میرے مشورے پر میرے چھوٹے بیٹے نے ہماری نیچے والی منزل میں مدرسہ کھول لیا، جو کہ میرے شوہر کے نام پر ہے ، اور اس کے علاوہ ایک ٹرک میرے نام پر ہے ،جو کہ میرے شوہر نے اپنی زندگی میں میرے نام کر دیا تھا، میرے شوہر کی ایک بس تھی ،جو کہ میرے شوہر کی بیماری کے دوران بیچنا چاہ رہے تھے ،اور میرے چاروں بیٹے بھی موجود تھے، تب میرے چھوٹے بیٹے نے سب کی موجودگی میں بس خریدی، پہلے بھی گاڑیوں کی ذمہ داری ، ٹوٹے پھوٹے بھاگ دوڑ اس کے ہاتھ تھی، اس لئے یہ بس میرے چھوٹے بیٹے نے خریدی، اور جو ٹرک ہے، وہ میرے شوہر کے مرنے کے بعد میرے تیسرے نمبر کے بیٹےکے لئے گھر کے حالات صحیح نہیں تھے، خرچے کی تنگی تھی، اس لئے میں نے ٹرک اس کے حوالے کر دیا ،جو کہ مجھے مہینے کے 3000 روپے دیتا تھا، اب گاڑی کا کام نہیں ہے اور بیٹا بے روزگار ہے، اس لئے وہ آمدنی بھی نہیں ہے، اسی وجہ سے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ مجھے اب یہ تقسیم کس طرح کرنی چاہیئے جو کہ میرے اخراجات پورے کرنے کا وسیلہ ہے ،اس جائیداد کے تقسیم کس طرح ہو ،اور جو گھروں کا کرایہ آتا ہے میرا خرچہ ہوتا ہے، میرا کوئی بیٹا میری بیماری، میرا علاج ، خوراک کا خیال نہیں رکھتا، سلام دعا، سب ٹھیک ہیں۔ لیکن اللہ تعالی نے مجھے خود اتنا دیا ہے کہ وہ لوگ مطمئن ہیں کہ میرے ضروریات پوری ہو رہی ہیں ،اب تو میرے دو گھر ہیں، اور ٹرک ہے جو کہ میرے نام پر ہے، کیا انہیں میں اپنے لئے بیچ سکتی ہوں؟ اس کی اجازت مجھے ہے ؟ اور جو نیچے والی منزل ہے، وہ میرے شوہر کی خواہش تھی کہ وہ میرے نام پر ہو، مگر وہ میرے شوہر کے نام پر ہے اور میرے شوہر کی خواہش پر اس میں ہم نے مدرسہ کھولا ہے ،تو کیا نیچے والے گھر میں مدرسے کی اجازت ہے ، اللہ کے فضل سے ہم نے اپنے تمام بیٹوں کے ساتھ مالی ساتھ دیا ہے، گھروں کے بنانے میں بچوں کی شادی بیاہ میں، خوشی، غم میں، مہربانی فرما کر مجھے جواب دیں ہمیں تفصیل سے جواب سے دیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے بلاکسی جبر واکراہ کے اپنی مرضی وخوشی سے صحت والی زندگی میں اپنے مال و جائیداد میں سے جس بیٹے ، بیٹی یا سائلہ کو جو کچھ دےکر اس پر اسے مالکانہ قبضہ بھی دیدیا تھا، تب تو وہی شخص اس شئے موہوب کا مالک ہے۔ اور اس میں خریدو فروخت وغیرہ جو چاہے، تصرف کر سکتا ہے، ورنہ محض زبانی یا کاغذوں میں نام کرنے یا ہبہ کرنے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، بلکہ اس طرح کی نام کی ہوئی تمام جائیداد وغیرہ حسبِ سابق مرحوم کی ملک ہے ،اور اسے اس کے ترکہ میں شامل کر کے تمام ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کرنا ضروری ہے، اس کے بعد واضح ہو کہ مذکورہ مدرسہ کی جگہ چونکہ مرحوم نے کسی کی ملکیت میں نہیں دی تھی، اس لئے اس کے انتقال پر وہ مرحوم کا ترکہ بننے کی وجہ سے اس کے تمام ورثاء کا حق بن گیا تھا اگر وہ کبھی اس کو مدرسہ بنانے پر رضامند ہوں ،تو اس کو مدرسہ کے لئے وقف کرنا درست ہے ورنہ نہیں۔ اسی طرح مرحوم نے جن اشیاء پر سائلہ کو مالکانہ قبضہ دیدیا تھا، اس کا اپنی حیات ہی میں تقسیم کرنا لازم نہیں، تاہم اگر وہ تقسیم کرنا چاہے تو اس بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک محتاط اندازہ کے مطابق اپنی بقیہ زندگی کے لئے کچھ بچا کر رکھ لے اور باقی اپنی تمام اولاد میں برابر برابر تقسیم کریں ،اور اگرکسی محتاجی، دینداری، خدمت گزاری کی وجہ سے اسے دوسروں سے کچھ زیادہ دینا چاہے، تو ایسا بھی کر سکتی ہے۔ مگر بلاوجہ کسی بیٹے یا بیٹی کو بالکل محروم کرنا درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافي الهداية شرح البداية: الھبة عقد مشروع وتصح بالإيجاب والقبول والقبض (3/ 224)۔
و في الدر المختار: و في الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم اھ (5/ 696)۔
’این ،جی، اوز کاغریب و نادار لوگوں یا کسی مصیبت زده و پسماندہ علاقہ کے باشندوں کی مدد کرنا،اور ان کے ساتھ معاونت کرنا
یونیکوڈ 0