مفتیان کرام !عرض یہ ہے کہ فوجی حضرات کو csdسے جو بائیک یا اور گھریلو سامان قسطوں پر ملتے ہیں اس کے متعلق کچھ احباب کا کہنا ہے کہ یہ سود کے زمرے میں آتا ہے، اسلئے یہ ناجائز اور حرام ہے ،لہٰذا آپ صاحبان مہربانی فرماکر قرآن و حدیث کے روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کر لیجیے گا ۔
فوجی حضرات مذکور ادارے سے اگر درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے بائیک اور گھر یلوں سامان خریدیں تو شرعاً جائز اور درست ہوگا ،(1) مجلس عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا (2)ہر قسط کی مالیت طے کر لی جا ئے(3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہونگی (4)کسی قسط کی تا خیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو ۔
کما فی فقہ البیع :وکماویجوز ضرب الاجل لأداءالثمن دفعۃً واحدۃ ، کذللک یجوز أداءالثمن بأقساط ومبالغھا معینۃ عند العقد، وقد یسمیٰ"البیع بالتقسیط"وھونوع من البیع المؤجل ، الاقساط قدیسمیٰ "نجاماً"(البیع بالتقسیط ج1 ص539 ط:معارف القرآن)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1