زراعت

زراعت میں شرکت سے متعلق حکم

فتوی نمبر :
73187
| تاریخ :
2024-05-17
معاملات / مالی معاوضات / زراعت

زراعت میں شرکت سے متعلق حکم

ہم دو بھائی مشترکہ زمین کی کاشت کررہے ہیں، آدھی زمین میری ہے اور آدھی اسکی، ایک بھائی صرف محنت کرتا ہے، جبکہ دوسرا بھائی کاشت وغیرہ کا خرچہ اٹھاتا ہے،اور آخر میں آمدن برابر تقسیم کرتے ہیں،کیا شرعی لحاظ سے یہ جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے سوال میں دو بھائیوں کے درمیان ہونے والے معاملے کی مکمل تفصیل ذکر نہیں کی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر زمین دونوں بھائیوں کے درمیان مشترکہ ہو، اور ایک بھائی کی طرف سے فقط عمل (اور محنت) ہو، جبکہ دوسرے بھائی کے ذمہ بیج اور دیگر ا خراجات ہوں، تو ایسی صورت میں شرعاً یہ معاملہ درست نہیں، بلکہ فاسد ہے،لہذا دونوں بھائیوں کو چاہیئے کہ مذکور طریقہ کار کے مطابق معاملہ کرنے کے بجائےشرعی شرائط وقیود کا لحاظ رکھتے ہوئےدرست معاملہ کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی المبسوط للسرخسی: ولو كان البذر من الدافع فالعقد فاسد؛ لأنه يصير كأنه قال: ازرع نصيبي من الأرض ببذري على أن الخارج كله لي، وهذه استعانة صحيحة لو اقتصر عليها ولكنه قال: وازرع نصيبك من الأرض ببذري على أن الخارج كله لك، وهذا أيضا إقراض صحيح للبذر لو اقتصر عليه ولكن الجمع بينهما يظهر الفساد باعتبار أنه جعل بإزاء عمله في نصيب الدافع منفعة إقراض البذر إياه، أو تمليك البذر منه هبة في مقدار ما يزرع به نصيب نفسه، فلهذا فسد العقد، والزرع كله للدافع؛ لأن إقراض شيء من البذر غير منصوص عليه، وإنما كنا نثبت التصحيح للعقد بينهما، وليس فيه تصحيح العقد فلا يجعل مقرضا شيئا من البذر منه، فلهذا كان الخارج كله لصاحب البذر، وللعامل عليه أجر مثل عمله وأجر حصته من الأرض؛ لأن منفعة حصته من الأرض ومنفعة عمله سلمت للدافع بعقد فاسد، ويطيب له نصف الريع؛ لأنه رباه في أرض نفسه ويأخذ من النصف الآخر نصف البذر وما غرم من أجر مثل نصف الأرض ونصف أجر مثل العامل، ويتصدق بالفضل؛ لأنه رباه في أرض غيره بسبب فاسد الخ(ج23 صـ28 کتاب المزارعۃ باب الأرض بين رجلين يدفعها أحدهما إلى صاحبه مزارعة ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
کما فی الھندیۃ: ولو كانت الأرض والبذر منهما وشرطا العمل على أحدهما على أن يكون الخارج بينهما نصفين جاز ويكون غير العامل مستعينا في نصيبه ولو كانت الأرض والبذر منهما وشرطا للدافع ثلث الخارج والثلثين للعامل لا يجوز في أصح الروايتين لأن الخارج نماء بذرهما فإذا كان البذر منهما كان الخارج مشتركا بينهما الخ (ج5 صـ239 کتاب المزارعۃ الباب الثانی ط: دار الفکر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73187کی تصدیق کریں
0     641
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ادھار رقم دے کر کاشت کاری کا حصہ لینا

    یونیکوڈ   زراعت 0
  • اگر زمیندار ،زمین کے مالک کو پیداوار کا ساتواں حصہ دے تو یہ جائز ہے؟

    یونیکوڈ   زراعت 0
  • زراعت میں شرکت سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   زراعت 0
  • زراعت کی جائز صورتوں کی تفصیل

    یونیکوڈ   زراعت 0
  • درختوں کو کرایہ پر دینے کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   زراعت 0
  • زمین کو مزارعت کیلئے کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   زراعت 0
Related Topics متعلقه موضوعات