زراعت

درختوں کو کرایہ پر دینے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
80198
| تاریخ :
2024-12-27
معاملات / مالی معاوضات / زراعت

درختوں کو کرایہ پر دینے کی ایک صورت کا حکم

کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل باغ کے مالکان مثلا آم کے باغ کو تین سال یا چار سال کے لیے کسی کو دیتے ہیں،اور ایک درخت کی قیمت متعین کرکے تمام درختوں کی قیمت لگاتے ہیں یا جملہ کوئی بھی قیمت باعتبار فیصد کے متعین کردیتے ہیں اور مالک باغ اس کو کہتا ہے کے مثلاً سالانہ ان آم کے درختوں پر مجھے تین لاکھ روپیہ دینا ہوگا چاہے اس پر پھل آئےیا نہ آئےیا کچھ بھی مسئلہ درپیش ہو میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں، اس طرح بات چیت کرلیتے ہیں، اور جس آدمی نے باغ لیا ہے اس کی تمام ذمہ داریاں ہوتی ہیں ہل چلانا پانی دینا اگر اس پر پھل آئےتو اس کو توڑکر بیچنا وغیرہ اور باغ کی صورتحال جب مالک سامنے والے کے حوالے کرتا ہے تو یہی ہوتی ہے کہ نہ ان‌ درختوں پر پھل ہوتے ہیں، اور نہ یہ پتا کے ان درختوں پر پھل آئےگا یا نہیں آئےگا ، اور یہ طریقہ کار بہت زیادہ عام بھی ہوگیا ہے، اور اس طرح کی صورت میں جس نے ٹھیکہ پر لیا ہے اگر اس کا نقصان بھی ہو جائےتو یہ نقصان عاقدین کے درمیان مفضی الی المنازعہ بھی نہیں ہوتا ہے تو یہ صورت عموم بلوی کے تحت آسکتی ہے یا نہیں ؟اور اگر باغ کا مالک اسی طرح دینا چاہتا ہے یعنی اس کے پاس اتنا وقت موجود نہیں ہے یا وہ بیمار ہے وغیرہ تو ایسی صورتحال میں شرعی اعتبار سے کن شرائط و قیود کے ساتھ اس طرح معاملہ کرنے کی اجازت مل سکتی ہے ، براہ کرم ان دو سوالات کا مکمل مدلل مفصل جواب ارسال فرمائیں جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ باغ کے درختوں کو تین یا چار سال کی مدت کیلئے اجارہ پر دینا جائز نہیں ہے،اس لئے کہ عقدِ اجارہ شرعاً منافع پر وارد ہوتا ہے، جبکہ درخت پرپھل لگنے کے بعد وہ پھل عین بن جاتا ہے جسکی بیع کی جاتی ہےنہ کہ اجارہ، لہذا صورتِ مسئولہ میں باغ کے مالک کا صرف درختوں کو اجارہ پر دینا تاکہ مستأجر ( باغ کو کرایہ پر لینے والا ) پھل وغیرہ حاصل کر سکےجائز نہیں۔
اس معاملہ کی جائز صورت ایک یہ ہے کہ ماہانہ اجرت پر کچھ ملازمین رکھے جائیں جو باغ کی دیکھ بھال کریں، اور پھل تیار ہونے کے بعد مالک اسے فروخت کر کے منافع حاصل کر ے، اور دوسری صورت یہ بھی ممکن ہے کہ مالک اپنا باغ جس شخص کو اجارہ پر دینا چاہتاہے اس شخص سے مساقات کا معاملہ کرلیں، اور اپنے لئے پھلوں کا بہت معمولی سا حصہ مثلاً اپنے لئے ایک یا دو فیصد اور مساقی کیلئے باقی ماندہ فیصد متعین کرلے، اور اس کے بعد ایک علیحدہ عقد کے ذریعہ اس باغ کی خالی زمین اس شخص کو سالانہ جتنی قیمت پر باغ فروخت ہوتا ہے اتنی ہی قیمت پر ایک سال یا دو سال کی اجرت پر دیدے، تاہم اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوگاکہ پہلے درختوں کو مساقات پر دے، اور اس کے بعد زمین کو اجارہ پر دے اس طرح کرنے سے یہ معاملہ شرعاً بھی درست منعقد ہوگا، اور مطلوبہ ہدف بھی حاصل ہوجائےگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : فیستأجر أرضہ الخالیۃ من الاشجار بمبلغ کثیر، ویساقی علی أشجارھا بسھم من الف سھم الخ
وفی الشامیۃ تحت : (قولہ فیستأجر أرضہ الخالیۃ) أی بیاضھا بدون الاشجار، وإنما لایصح استئجار الاشجار ایضاً مما مرّ أنھا تملیک منفعۃ فلو وقعت علی استھلاک العین قصداً فھی باطلۃ قال الزیلعی وسیاتی فی اجارۃ الظئر أن العقد الاجارۃ علی استھلاک الاعیان مقصوداً کمن استأجر بقرۃ لیشرب لبنھا وکذا لو استأجر بستانا لیأکل ثمرہ، قال: وبہ علم حکم إجارات الاراضی والقری التی فی ید المزارعین لا کل خراج المقاسمۃ منھا، ولا شک فی بطلانھا والحال ھذہ وقد افتیت مراراً (قولہ بمبلغ کثیر) أی بمقدار ما یساوی أجرۃ الارض وثمن الثمار (قولہ ویساقی علی اشجارھا) یعنی قبل عقد الاجارۃ والا کانت اجارۃ الارض مشغولۃ فلا تصح الخ (کتاب الاجارۃ، ج6، ص8،ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80198کی تصدیق کریں
0     426
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ادھار رقم دے کر کاشت کاری کا حصہ لینا

    یونیکوڈ   زراعت 0
  • اگر زمیندار ،زمین کے مالک کو پیداوار کا ساتواں حصہ دے تو یہ جائز ہے؟

    یونیکوڈ   زراعت 0
  • زراعت میں شرکت سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   زراعت 0
  • زراعت کی جائز صورتوں کی تفصیل

    یونیکوڈ   زراعت 0
  • درختوں کو کرایہ پر دینے کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   زراعت 0
  • زمین کو مزارعت کیلئے کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   زراعت 0
Related Topics متعلقه موضوعات