السلام علیکم! زید ایک زمیندار آدمی ہے ، عمرو نے اس سے کہا کہ آپ اپنی زمین میں فلاں فصل کاشت کرلو اور اسکے بیج، ٹریکٹر، کھاد وغیرہ مطلب جتنا بھی خرچہ ہوگا وہ عمرو کرلے گا اور جب فصل تیار ہوجائے گی تو جتنی پیداوار اس زمین سے ہوئی ہے اس کی قیمت عمرو زید کو ادا کر دیگا ، توکیا یہ معاملہ جائز ہوگا یا نہیں ؟ اگر جائز ہے تو یہ اجارہ ہوگا یا کچھ اور ؟ اور اگر ناجائز ہے تو اس کی وجہ بھی مکمل وضاحت کے ساتھ تحریر کیجئے۔ جزاک اللہ خیرا
سائل کی بیان کردہ صورت کو فقہاء کرام نے مزارعت کی ناجائز اقسام میں شمار کیا ہے، کیونکہ مزارعت کا معاملہ صحیح ہونے کے لئے ضروری ہے کہ دو چیزوں (عمل اور زمین) میں کسی ایک کو بطور اجارہ مقصود بناکر معاملہ کیا جائے، اگر ان دونوں کو معاملہ میں ایک ساتھ جمع کردیا جائے تو یہ شرعاً جائز نہیں ہے، جبکہ مذکور صورت میں بیک وقت زمین اورعامل کی منفعت کو جمع کرنا لازم آرہا ہے جو مزارعت کی ناجائز اقسام میں شامل ہے، اس لئے زید اور عمرو پر لازم ہے کہ وہ اس صورت کے بجائے مزارعت کی درج ذیل جائز اقسام میں کسی ایک کو اختیار کرلیں۔
1۔ زمین اور بیچ ایک کی طرف سے ہو اور عمل ، ٹریکٹر وغیرہ دوسرے کی طرف سے
2۔ زمین ایک کی طرف سے ہو اور عمل، ٹریکٹر اور بیچ دوسرے کی طرف سے
3۔ زمین، بیچ اور ٹریکٹر ایک کی طرف سے ہو اور عمل دوسرے کی طرف سے ہو
اس کے علاوہ تمام صورتیں ناجائز ہیں۔
کما فی الھدایۃ: قال: "وهي عندهما على أربعة أوجه: إن كانت الأرض والبذر لواحد والبقر والعمل لواحد جازت المزارعة" لأن البقر آلة العمل فصار كما إذا استأجر خياطا ليخيط بإبرة الخياط، "وإن كان الأرض لواحد والعمل والبقر والبذر لواحد جازت" لأنه استئجار الأرض ببعض معلوم من الخارج فيجوز كما إذا استأجرها بدراهم معلومة "وإن كانت الأرض والبذر والبقر لواحد والعمل من آخر جازت" لأنه استأجره للعمل بآلة المستأجر فصار كما إذا استأجر خياطا ليخيط ثوبه بإبرته أو طيانا ليطين بمره " الخ (ج4، ص338، ط۔بیروت)۔
و فی بدائع الصنائع: (ومنها) : أن يكون البذر والبقر من جانب، والأرض والعمل من جانب، وهذا لا يجوز أيضا؛ لأن صاحب البذر يصير مستأجرا للأرض والعامل جميعا ببعض الخارج، والجمع بينهما يمنع صحة المزارعة.اھ (ج6، ص179، ط،دارالکتب العلمیۃ)۔