کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے شہر ہری پور کے ایک گاؤں میں زمینوں کو کرائے پر دینے کا رواج ہے ، جس کے بارے میں ہمیں کافی تشویش ہے کہ آیا اس طرح کرائے پر زمین دیکر منافع لینا شریعت کی روشنی میں کیسا ہے؟
تین صورتیں ذکر کی جاتی ہیں ۔
(1)صورت:ایک بندہ کسی شخص کو اپنی زمین دیتا ہے کرائے پر، ایک سال کے لئے ،اور اس کو یہ کہتا ہے کہ تم ایک سال تک اس زمین میں فصل وغیرہ لگاؤ، اور سال کے بعد مجھے تیس ہزار یا چالیس ہزار روپے بطور کرائے کے دے دینا،اب آیا یہ صورت درست ہے یا نہیں؟
(2)صورت:ایک شخص دوسرے بندے کو یوں کہتا ہے کہ آپ مجھے دو لاکھ روپے دے دو، اور میری زمین اپنے پاس رکھ لو،ایک سال کے لئے ،اور اس میں فصل وغیرہ لگاؤ ،جب وہ شخص اس سے وہ زمین واپس لیتا ہے ،تو جو پیسے اس نے سال کے شروع میں دولاکھ یا ایک لاکھ روپے لیے تھے ، وہ اس کو واپس کردیتا ہے،اور اس میں سے دس ہزار یا پندرہ ہزار روپےبطور کرائے کے کاٹ لیتا ہے ،شریعت کی روشنی میں یہ صورت درست ہے یا نہیں ، اگر زمین بطور رہن کے دی جا رہی ہوتو ایسی صورت میں کیا حکم ہے ؟اور اگر قرض کے طور پر لی جارہی ہوتو اس کا کیاحکم ہے؟اس کے بارے میں بھی تفصیلی وضاحت اورحکم بیان کریں۔
(3)صورت:ایک شخص دوسرے کو اپنی زمین دیتا ہے،اور اس کے ساتھ یہ معاہدہ طے کرتا ہے کہ سال کے دس من یا پندرہ من گندم آپ مجھے دو گے ، شریعت کی روشنی میں یہ صورت بھی درست ہے یا نہیں؟ والسلام
واضح ہوکہ کسی کو اپنی زمین کرائے پر دینا شرعاً جائزاور درست ہے،بشرطیکہ زمین کرائے پر دیتے وقت مدت (ایک سال یا دو سال کیلئے)اور اجرت (مثلاً تیس ہزار، چالیس ہزار وغیرہ )دونوں متعین ہوں،ورنہ اس کے بغیر اجارہ فاسد ہوجائیگا، ،اسی طرح کسان کے ساتھ اگر اجارہ کے بجائے مزارعت یا بٹائی کا معاہدہ کیا جائے،تو یہ بھی جائز ہے،لیکن اس میں فصل کی متعین مقدار(جیسےدس یا پندرہ من گندم ) کی ادائیگی کی شرط لگاناجائز نہیں ،بلکہ کل پیداوار میں ایک مشاع حصے(جیسے تہائی ،یا چوتھائی) کی تعیین ضروری ہے،ورنہ یہ معاملہ درست نہ ہوگا۔
لہذا سوال میں ذکر کردہ پہلی صورت تو مطلقاً جائزہے ،البتہ تیسری صورت میں اگر یہ معاملہ اجارہ (کرایہ داری) کاہو،مزارعت کا نہ ہو،اور مدت کی تعیین کے بعد بطور ِاجرت فریقین باہمی رضامندی سے کیش رقم کے بجائے متعین مقدار میں گندم بطورِ اجرت متعین کردے،تو یہ صورت بھی جائز ہے،بشرطیکہ اس گندم کی ادائیگی اسی زمین کی پیداوارسے متعین نہ کی جائے، بلکہ مطلق دس یا پندرہ من طے کی جائے ، اگرچہ بعد میں اسی زمین سے کرایہ دار گندم دیدے۔
(2):جبکہ سوال میں ذکر کردہ دوسری صورت شرعاً جائز نہیں،کیونکہ یہ زمین قرض کے بدلےرہن ہے،اوررہن سے استفاد کرناسود کے زمرے میں آتا ہے،لہذا اس طرح معاملہ کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
کمافی شرح السنة للبغوي:قال الإمام: فيه دليل على جواز إجارة الأراضي، وذهب عامة أهل العلم إلى جوازها بالدرهم والدنانير، وغيرها من صنوف الأموال، سواء كان مما تنبت الأرض أو لا تنبت، إذا كان معلوما بالعيان أو بالوصف، كما يجوز إجارة غير الأراضي من العبيد والدواب وغيرها، وجملته أن ما جاز بيعه، جاز أن يجعل أجرة في الإجارة. اھ (8/263)۔
وفی النتف في الفتاوی: انواع الربا:واما الربا فهو ثلاثة اوجه:احدها في القروض،والثاني في الديون،والثالث في الرهون
الربا في الرهن:واما الربا في الرهن فان ذلك على وجهين:احدهما في الانتفاع بالرهن،والاخر باستهلاك ما يخرج من الرهن فاما الانتفاع بالرهن مثل العبد يستخدمه والدابة يركبها والارض يزرعها والثوب يلبسه والفرش يبسطه ونحوها الخ،فان ذلك كله ربا ولا يحل ذلك لانه ليس للمرتهن في الرهن حق سوى الحفظ اھ (1/484/486)۔
و فی الشامیہ: لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم.قلت: وهذا مخالف لعامة المعتبرات من أنه يحل بالإذن إلا أن يحمل على الديانة وما في المعتبرات على الحكم ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به اهـ ما في المنح ملخصا اھ(5/166)۔
وفیھا ایضاً:وفي أوائل إجارات القنية عن الأصل استأجر أرضا فزرعها سنين، فعليه أجر السنة الأولى ونقصان الأرض فيما بعدها، ويتصدق بالفضل عند أبي حنيفة ومحمد قال القاضي الصدر: هذا إذا لم تكن الأرض معروفة بالإجارة، بأن كانت لا تؤجر كل سنة فلو عرفت بها يجب أجر السنين المستقبلة، بلا خلاف اھ(6/207)۔
وفی الدر:(و)بشرط (الشركة في الخارج)ثم فرع على الأخير بقوله (فتبطل إن شرط لأحدهما قفزان مسماة أو ما يخرج من موضع معين، أو رفع) رب البذر (بذره أو رفع الخراج الموظف وتنصيف الباقي بعد رفعه،(بخلاف) شرط رفع (خراج المقاسمة) كثلث أو ربع (أو) شرط رفع (العشر) للأرض أو لأحدهما؛ لأنه مشاع فلا يؤدي إلى قطع الشركة،(أو) شرط (التبن لأحدهما والحب للآخر) أي تبطل لقطع الشركة فيما هو المقصود (أو) شرط (تنصيف الحب والتبن لغير رب البذر) ؛ لأنه خلاف مقتضى العقد اھ(6/276/277)۔
و فی الهداية في شرح بداية المبتدي :"والمنافع تارة تصير معلومة بالمدة كاستئجار الدور، للسكنى والأرضين للزراعة فيصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت"؛ لأن المدة إذا كانت معلومة كان قدر المنفعة فيها معلوما إذا كانت المنفعة لا تتفاوت. وقوله أي مدة كانت إشارة إلى أنه يجوز طالت المدة أو قصرت لكونها معلومة ولتحقق الحاجة إليها عسى، إلا أن في الأوقاف لا تجوز الإجارة الطويلة كي لا يدعي المستأجر ملكها وهي ما زاد على ثلاث سنين هو المختار.اھ(3/ 230)۔
وفی الھندیہ: ومنها أن تكون الأجرة معلومة. ومنها أن لا تكون الأجرة منفعة هي من جنس المعقود عليه كإجارة السكنى بالسكنى والخدمة بالخدمة. ومنها خلو الركن عن شرط لا يقتضيه العقد ولا يلائمه اھ (4/411)۔