کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے کہ ایک شخص کی زمین ہے, دوسرا اس پر گندم اگاتا ہے, پیداوار کا ساتواں حصہ جو اسی زمین کا ہو مالک لے لیتا ہے؟آیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس عقد کو شریعت کی اصطلاح میں کیا کہتے ہیں؟
سوال میں مذکور عقد کو شریعت کی اصطلاح میں عقدِ " مزارعت " کہتے ہیں،چنانچہ اگر مالک کی طرف سے صرف زمین ہو اور بقیہ اشیاء (یعنی گندم،محنت ،ٹریکٹر وغیرہ) دوسرے شخص کی طرف سے ہوں اور اخراجات وغیرہ نکالنے کے بعد باقی ماندہ کا ساتواں حصہ مالک زمین کے لئے طے ہو ، تو یہ معاملہ شرعاً جائز ہے ۔
کمافی الشامیة: الزرع هو الإنبات لغة و شرعا، و المتصور من العبد التسبب في حصول النبات، و قد وجد من أحدهما بالعمل و من الآخر بالتمكين منه بإعطاء الآلات إلا أنه اختص العامل بهذا الاسم في العرف كاسم الدابة لذوات الأربع اھ (6/274)۔
و فی بدائع الصنائع: الشرائط التي ترجع إلى الخارج من الزرع(و منها) : أن يكون ذلك البعض من الخارج معلوم القدر من النصف و الثلث و الربع و نحوه؛ لأن ترك التقدير يؤدي إلى الجهالة المفضية إلى المنازعة؛ و لهذا شرط بيان مقدار الأجرة في الإجارات كذا هذا (و منها) : أن يكون جزءا شائعا من الجملة حتى لو شرط لأحدهما قفزانا معلومة لا يصح العقد؛ لأن المزارعة فيها معنى الإجارة، و الشركة تنعقد إجارة ثم تتم شركة اھ (6/177)۔