السلام علیکم!
سلام کے بعد گزارش ہے کہ میں اپنی ذاتی جائیداد کے متعلق سوال عرض کرنا چاہتا ہوں،میں اپنی زندگی حیات میں اپنی ذاتی جائیداد کو بیچ کر اس سے جو رقم حاصل ہوگی اس رقم میں سے آدھی رقم میں اپنی اولاد کو دینا چاہتا ہوں(جن میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں) بیٹوں کو اس رقم سے مکان لے کے دوں گا اور بیٹیوں کو نقد رقم دینا چاہتا ہوں اگر بالفرض کوئی بیٹا نقد رقم کا مطالبہ کرے تو اسے نقد رقم نہیں دینا چاہتا بلکہ مکان لے کے دینا چاہتا ہوں کیونکہ ان کے پاس گھر نہیں ہے اور باقی آدھی رقم میں اپنی ذات کے لئے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ اپنی باقی کی زندگی گزار سکوں، برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، لہٰذا سائل کے ذمہ بھی اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا کوئی لازم نہیں ، البتہ اگر وہ اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیمِ ِترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ ہے ، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد ( بیٹوں اور بیٹیوں ) میں برابر تقسیم کرتے ہوئے( چاہے یہ تقسیم مکان کی صورت میں ہو یا نقدی کی صورت میں ہو بہر دو صورت ) ہر فرد کو اسکے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے ، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں ، تاہم اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اسکی بھی اجازت ہے مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے ۔
کما فی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ، ص 127 ، ط : سعید ) ۔
و فی البحر الرائق : یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ ( الی قولہ ) و فی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثیٰ فی الھبۃ الخ ( کتاب الھبۃ ج 7 ، ص 288 ، ط : ماجدیہ ) ۔
و فی الھندیۃ : و لو وھب رجل شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض ( الی قولہ ) لاباس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل ما یعطی للابن و علیہ الفتوٰی الخ (کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 391 ، ط : ماجدیہ )۔
و فی الدر المحتار : ( و تتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔