السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں! کہ میراسیمنٹ کا کاروبار ہے، میں دوسری جگہ سے ٹرک سیمنٹ کا منگواتا ہوں، اور کمپنی کے ساتھ سارے معاملات خود طے کرتا ہوں، میں نے ایک ٹرک ڈرائیور سے بات کی ہوئی ہے وہ ٹرک ڈرائیور مل کا ملازم نہیں، وہ مل سے سیمنٹ لے کر راستے میں مختلف دکانوں میں دے دیتا ہے،اور ان سے پیسے لے کر مجھے دیتا ہے، میرے پاس پہنچنے سے پہلے پہلے ہی بعض اوقات گاڑی خالی ہوجاتی ہے، اور بعض اوقات کچھ سیمنٹ کی بوریاں میرے پاس بھی پہنچتی ہیں جو کہ اپنی دوکان پر رکھ کر فروخت کرتا ہوں، اور ایسے ہی ایک جگہ سیمنٹ کا ریٹ کم ہوتا ہے تو اس جگہ کم ریٹ میں اور جس جگہ ریٹ زیادہ ہوتا ہے، وہاں زیادہ ریٹ پر فروخت کرتا ہوں، کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں!
صورت مسؤلہ میں ٹرک ڈرائیور چونکہ سائل کی طرف سے وکیل بالقبض ہے، لہذا مل سے سیمنٹ لوڈ کرلیتے ہی اس سیمنٹ کا رسک (ضمان) سائل کی طرف منتقل ہوجاتا ہے، لہذا سائل کے لئے راستہ میں ہی مختلف دکانداروں کو کم و بیش قیمت پر سیمنٹ فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
کما فی درر الاحکام: أما إذا سلم البائع المبيع إلى شخص أمر المشتري بتسليمه إليه فقد حصل القبض كما لو سلم البائع المبيع إلى المشتري نفسه فإذا أمر المشتري البائع قبل القبض بتسليم المبيع إلى شخص معين وسلم البائع المبيع إلى ذلك الشخص يكون المشتري قد قبض المبيع(فصل فی بیان حقیقۃ التسلیم و التسلم الخ،ج1،ص249،ط:دار الجیل)۔
و فی البحر الرائق:أن الثمن ما تراضى عليه المتعاقدان سواء زاد على القيمة أو نقص الخ(باب خیار الشرط، ج6،ص15،ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1