جناب مفتی صاحب !عبد اللہ کے سات بیٹے ،ایک بیٹی اور پانچ بہنیں ہیں ، عبد اللہ کی اپنی ایک ذاتی جگہ ہے ،پانچ بہنوں میں سے ایک کا انتقال ہو گیا ہے ،سات بیٹوں کے حصہ میں کیا آئے گا اور ایک بیٹی کے حصہ میں کیا آئے گا ،اور بہنوں کا اس میں حصہ ہے یا نہیں ؟اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
نوٹ:سائل نے وضاحت میں بتایا کہ گھر والد صاحب نے ذاتی کمائی سے خریدا تھا ، اس میں ترکہ وغیرہ کی رقم شامل نہیں ہے ، اب والد صاحب اپنی مرضی سے گھر میں سے حصہ اپنی بہنوں کو دینا چاہتے ہیں ،لہذا رہنمائی فرمائیں کہ والد صاحب بہنوں کو کتنا حصہ دے سکتے ہیں ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر مذکور گھر سائل کے والد کی ذاتی ملکیت ہو ، مرحوم دادا دادی کا ترکہ نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کے والد کی حیات میں مذکور گھر کے اندر نہ سائل کے بہن بھائیوں کا حصہ ہےاور نہ ہی پھوپھیوں کا حصہ ہے، لہذا ان میں سے کسی کو بھی مذکور گھر میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل نہیں ، البتہ اگر سائل کا والد اپنی خوشی ورضامندی سے مذکور گھر میں سے اپنی بہنوں کو جو کچھ دینا چاہتا ہے وہ دے سکتا ہے ، اس کے بعد جو بچے اس میں اپنی اور اپنی بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے تھوڑا بہت رکھ کر باقی مال و جائیداد اپنی اولاد بیٹی اور بیٹوں میں برابر تقسیم کر دے اور بہنوں اور اولاد کو ان کے حصوں پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ،تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی تام اور درست ہو سکے۔
کما فی رد المحتار: ومن أراد التصدق بماله كله وهو يعلم من نفسه حسن التوكل والصبر عن المسألة فله ذلك وإلا فلا يجوز الخ (ج 2 ص 357)۔
وفی الھندیۃ: ومنھا (من شرائط الھبۃ) ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ (ج 4 ص 374)۔