السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں یورپ میں رہتا ہوں اور کرائے کی قیمت اور ریٹس کی وجہ سے، مکانات کے بحران اور طویل مدتی کرائے کے کم اختیارات کی وجہ سے کرایہ پر مکان یااپارٹمنٹ حاصل کرنا مشکل ہے، تو میرا سوال یہ ہے،کہ اسلام میں سود کی ادائیگی کی اجازت نہیں ہے لیکن کیا ان حالات میں ہم جلد از جلد ادائیگی کی نیت سے کرایہ پر یا مورگج کے ذریعہ گھر خرید سکتے ہیں ؟کیا مدت کے اختتام پر خریدنے کے ارادے سےگاڑی کرایہ پر لینےیا لیز پر لینے کے لیے بھی ایسا ہی ہے؟
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاسکے ،تاہم اصولی طور پر یہ سمجھنا چاہیئے کہ عام حالات میں سودی لین دین کی شرعاً اجازت نہیں، اس لئے سائل کو سودی معاملات سے اجتناب کرنا چاہیئے البتہ اگر کوئی شخص ادارہِ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کرلے اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعہ اپنا منافع رکھ کر قسطوں پر یہ مکان سائل کو فروخت کردے کل قسطوں کی تعیین، قسط کی مالیت طے کرلی جائے اور کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر کوئی جرمانہ بھی وصول نہ کیا جائے یا سائل کسی شخص یا ادارے وغیرہ کے اشتراک سے مشتر کہ طور پر کوئی مکان خریدے اور پھر اس شخص اور ادارے وغیرہ سے اس کا حصہ کرایہ پر لیکر اسے کرایہ دیتا رہے ، اور وقتاً فوقتاً اسکے حصے میں مزید حصے کی خریداری کرتے رہے تو اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز ہوگا اور سائل کچھ عرصے بعد اپنے مکان کا مالک بھی بن جائےگا ۔
قال اللہ تعالی: وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الْرِبٰوا الآیۃ ( آیتـ275 سورۃ البقرۃ)
و فی الدر المختار: ( و صح بثمن حال) و ھو الأصل (ومؤجل إلی معلوم) لئلا یفضی إلی النزاع ولو باع مؤجلا صرف شھر بہ یفتی الخ اھ
و فی رد المحتار: تحت ( قولہ لئلا یفضی إلی النزاع) تعلیل الاشتراط کو الأجل معلوم (إلی قولہ) و منھا اشتراط أن یعطیہ الثمن علی التفاریق أو کل اسبوع البعض، فإن لم یشترط فی البیع بل ذکر بعدہ لم یفسد ، و کان لہ أخذ الکل جملۃ و تمامہ فی البحر الخ (کتاب البیوع مطلب فی التأجیل الخ ج 4 صـ 531 ط: سعید)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1