کیافرما تے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میرا نکاح آج سے تقریباً دس سال قبل ہوگیا تھا، اس نکاح سے ہمارے تین بچے دو لڑکے اور ایک لڑکی ہیں، میرا شوہر کچھ جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے تقریباً دس مہینوں سے جیل میں ہے، انکی ضمانت کے لئےمیں نے اپنے زیورات بھی فروخت کردیے ہیں، لیکن انکی ضمانت کی کوئی ترتیب نہیں بن پارہی، ابھی عید سے قبل وہ پھر ضمانت کے لئے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے مانگ رہے تھے، تو میں منع کررہی تھی کہ ضمانت ممکن نہیں، اور یہ بچوں کے خرچہ کے پیسے ہیں، لیکن وہ نہیں مان رہے تھے، تو پھر میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ میں یہ رقم اس شرط پر بھیج رہی ہوں،کہ فلاں دن تک آپکی ضمانت ہوجانی چاہیئے، اور اگر فلاں دن تک آپکی ضمانت نہ ہوئی تو پھر میں آپ پر طلاق ہونگی اور یہ ہے کہ آپ یہ الفاظ تین دفعہ بول دو، تو انہوں نے میسج کے ذریعےتین مرتبہ یہ الفاظ بول دیے ہیں کہ" اگر اتوار کے دن تک میں جیل سے نہ نکلا تو، تو مجھ پر طلاق ہوگی" ہمارے درمیان یہ بات چیت جمعہ کے دن ہوئی تھی،اور آنے والے اتوار کے ساتھ طلاق کو معلق کیا تھا،جبکہ وہ ابھی تک جیل سے رہا نہیں ہوئے،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلا قیں واقع ہوئیں ؟ اور اب میرے لئے کیا حکم ہے؟وائس ریکارڈ بھی موجود ہے۔
سائلہ کے شوہر نے اگر مذکور الفاظ " اگر اتوار کے دن تک میں جیل سے نہ نکلا تو، تو مجھ پر طلاق ہوگی " تین بار کہہ کر آنے والے اتوار کے ساتھ تین طلاقیں معلق کی ہوں، تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں معلق ہوچکی تھیں، چنانچہ اگر سائلہ کا شوہر اتوار کے دن جیل سے رہا نہ ہوا ہو، تو اس سے سائلہ پر تینوں معلق طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کےبغیرباہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزارنےکےبعداپنی مرضی سےدوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزادہے۔
کما فی رد المحتار: [مطلب في الطلاق بالكتابة] (قوله كتب الطلاق إلخ) (الی قولہ) فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو الخ (ج3 صـ246 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: الحاصل انہ اذا کان شرط الحنث عدمیا فان عجز عن شرط البر بفوات محلہ لایحنث وان مع بقاء المحل حنث سواء کان المانع حسیا او لا الخ (ج3 صـ383 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی المبسوط للسرخسی: قوله أنت طالق يوم يقدم فلان؛ لأن الطلاق لا يحتمل التوقيت ولا يختص بأحد الوقتين فذكر اليوم فيه عبارة عن الوقت فلا يقع به إلا واحدة ويجوز أن يكون المراد به المرة أو الاختيار فيقع الثلاث الخ (ج6 صـ218 باب الخیار ط: دار المعرفۃ، بیروت)۔
وفی بدائع الصنائع: ولو أضاف الزوج الطلاق إلى ما يستقبل من الزمان (الی قولہ) فإن قال لامرأته: أنت طالق غدا أو رأس شهر كذا أو في غد صح لوجود الملك وقت الإضافة، والظاهر بقاؤه إلى الوقت المضاف إليه فصحت الإضافة ثم إذا جاء غد أو رأس الشهر فإن كانت المرأة في ملكه أو في العدة أو في أول جزء من الغد والشهر يقع الطلاق وإلا فلا كما في التعليق الخ (ج3 صـ133 کتاب الطلاق فصل فی شرائط رکن الطلاق ط: دار الكتب العلمية)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0