اگر ہم ڈائیوو یا کسی دوسری بس سروس کی ٹکٹ ایزی پیسہ یا بینک اکاؤنٹ کے ذریعے خریدتے ہیں تو ان میں سے بعض ہمیں اُس پر ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں، تو اُس کا شرعی حکم کیا ہے؟ حلال ہے یا حرام؟
واضح ہو کہ ایزی پیسہ یا بینک اکاؤنٹ کے ذریعے بس وغیرہ کی ٹکٹ خریدنے پر جو ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے، اگر وہ کسٹمر کے اکاؤنٹ میں کسی متعین مقدار رقم رکھنے کی شرط کے ساتھ مشروط نہ ہو، بلکہ فقط اپنی پروڈکٹ کی تشہیر اور سیل بڑھانے کی خاطر ٹکٹ خریدنے پر دیا جاتا ہو، تو اِس صورت میں مذکور ڈسکاؤنٹ لینا اور اُس سے فائدہ اٹھانا جائز اور درست ہے۔
کما فی فقہ البیوع: الثالث ما جری بہ عمل بعض التجار أنھم یعطون جوائز لعملائھم الذین اشتروا منھم کمیۃ مخصوصۃ، ولو فی صفقات مختلفۃ، وقد تعطی ھذہ الجوائز بقدر الکمیۃ لکل أحد، وقد تعطی الجوائز بالقرعۃ، ولیس ھذا من قبیل الزیادۃ فی المبیع، لأنھا تعطی عادۃً بعد صفقات متعددۃ فی أزمنۃ وأمکنۃ مختلفۃ، فلا سبیل إلی نسبتھا إلی مبیع واحد، فھی ھبۃ مبتدأۃ موعودۃ من البائع لتشجیع الناس علی أن یشتروا البضائع منہ، وجواز أخذھا مشروط بأن لا یکون البائع زاد فی ثمن البضاعۃ من أجل ھذہ الجوائز، وإلا صار نوعاً من القمار، لأن مازاد علی ثمن المثل إنما طولب بہ علی سبیل الغرر إلخ (ج2،صـــ811،م:معارف القرآن)۔