میری ایک شادی شدہ بیٹی ہے، میں چاہتی ہوں کہ اپنی تمام جائیداد اپنی بیٹی، نواسے اور نواسی کے نام کر دوں،میرے تین بھائی اور تین بہنیں ہیں، جن میں سے ایک بہن کا انتقال ہوگیا ہے،اور باقی گھر کی تمام چھوٹی بڑی چیزوں کی تقسیم کرنا بہت مشکل ہے،ان تمام چھوٹی چیزوں کی تقسیم کا طریقہ کیا ہوگا،اس سلسلے میں اپنی وصیت کیسے لکھوں جس سے مجھے گناہ بھی نہ ہو،اور میرا مسئلہ بھی حل ہوجائے؟
واضح ہوکہ کسی شخص کی اپنے وارث کے لئے کی ہوئی وصیت شرعاً معتبر نہیں ہوتی، لہذا سائلہ اگر اپنی بیٹی کی محتاجگی وغیرہ کی وجہ سے مذکور مکان (بشرطیکہ یہ مکان سائلہ کی ذاتی ملکیت ہو، شوہر کا ترکہ نہ ہو)اسے دینا چاہتی ہو، تو اسے چاہیئے کہ مذکور مکان کا غذات میں بیٹی کے نام کرنے کے ساتھ ساتھ، اسے اس مکان پر مکمل قبضہ اور مالکانہ تصرف کا اختیار بھی دیدے، تاکہ یہ ہبہ (گفٹ) شرعاً بھی درست ہوسکے، چنانچہ اس گفٹ کرنے کے بعد سائلہ کی بیٹی اس مکان کی تنہا مالک ہوجائیگی، تاہم دیگر ورثاء کو محروم کرنے کی نیت سے ایسا کرنا درست نہیں، بلکہ گناہ کی بات ہے، جس سے سائلہ کو احتراز لازم ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح : و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» و في رواية قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»'۔اھ ((1/261باب العطایا، ط: قدیمی)۔
وفیھا ایضاً: عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة» منقطع هذا لفظ المصابيح. وفي رواية الدارقطني: قال: «لا تجوز وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة» الحدیث (ج2 صـ925 کتاب الفرائض باب الوصایا ط: المکتبۃ الاسلامی)۔
وفیھا ایضاً: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه الحدیث (ج2 صـ926 کتاب الفرائض باب الوصایا ط: المکتبۃ الاسلامی)۔
وفی بدائع الصنائع : وینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان (الی قولہ) وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة الخ (کتاب الھبۃ ، ج 6 ، ص 127 ، ط : سعید ) ۔