السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،محترم مفتی صاحب !سائل نے ایک لڑکی سے کلما کی قسم کھائی اور یوں کہا ” کلما کی قسم میں تیرے علاوہ اور کسی لڑکی سے شادی نہیں کروں گا “ اور اس سے مراد یہ سمجھی کہ جس سے بھی شادی کروں گا تیرے سوا تو اسے طلاق ہو جا ئیگی، مگر یہ الفاظ قسم کے ساتھ اس وقت نہیں بولے ، اب اس لڑکی سے سائل کی شادی نہیں ہو سکتی، کیوں کہ اسکی شادی کسی اور شخص سے ہوگئی ہے ،کیا اب سائل اس لڑکی کے علاوہ کسی اور لڑکی سے شادی کر سکتا ہے ؟ اگر نہیں کر سکتا تو براہِ کرم کوئی ایسی آسان صورت بتائیں کہ کسی اور عورت سے سائل کی شادی درست ہو ۔ مع السلام
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ سے قسم منعقد نہیں ہوئی ،بلکہ یہ کلام لغو ہے، لہذا سائل کسی دوسری لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ،تاہم آئندہ کیلئے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے بھی اجتناب لازم ہے۔
کمافی الشامیۃ: وفي حاشية للخير الرملي عن جامع الفصولين أنه ذكر كلاما بالفارسية معناه إن فعل كذا تجري كلمة الشرع بيني وبينك ينبغي أن يصح اليمين على الطلاق لأنه متعارف بينهم فيه. اهـ. قلت: لكن قال في [نور العين] الظاهر أنه لا يصح اليمين لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام اهـ (کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج3، ص247، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی اللباب فی شرح الکتاب: (وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع) الطلاق (عقيب النكاح) وذلك (مثل أن يقول) لأجنبية: (إن تزوجتك فأنت طالق، أو) يقول: (كل امرأة أتزوجها فھي طالق) فإذا تزوجها طلقت، ووجب لها نصف المهر، فإن دخل بها وجب لها مهر مثلها، ولا يجب الحد، لوجود الشبهة، ثم إذا تزوجها لا تطلق ثانياً لأن "إن" لا توجب التكرار، وأما " كل" فإنها توجب تكرار الأفراد دون الأفعال، حتى لو تزوج امرأة أخرى تطلق (وإذا أضافه) أي الطلاق (إلى) وجود (شرط وقع عقيب) وجود (الشرط) وذلك (مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) ، وهذا بالاتفاق، لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط، ويصير عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت. (ولا يصح إضافة الطلاق) أي تعليقه (إلا أن يكون الحالف مالكا) للطلاق حين الحلف، كقوله لمنكوحته: إن دخلت الدار فأنت طالق (أو يضيفه إلى ملك) ، كقوله الأجنبية: إن نكحتك فأنت طالق (وإن) لم يكن مالكا للطلاق حين الحلف ولم يضفه إلى ملك بأن (قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق، ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق) ، لعدم الملك حين الحلف والإضافة إليه، ولابد من واحد منهما، (کتاب الطلاق،ج3، ص46، ط: المكتبة العلمية،بيروت)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0