جس کمپنی میں کام کرتا ہوں، اسی کو اپنی دکان سے سامان بیچنا جائز ہے یا نہیں؟
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کمپنی کی طرف سے سامان کی خریداری کا وکیل سائل کو بنایا جاتا ہے یا کسی اور ملازم کو وکیل بنایا جاتا ہے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر کمپنی کی طرف سے خریداری کا واسطہ کوئی اور بنتا ہوتو سائل کے لیے اپنی دکان کا سامان کمپنی کو نفع کے ساتھ فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، البتہ اگرکمپنی کی طرف سے سائل ہی خریداری کرنے کا وکیل ہو اور سائل دوسری جگہ کے بجائے اپنی ہی دکان سے سامان خریدتا ہے تو اس طرح کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: (لو باع الوكيل بالشراء ماله لموكله لا يصح) . ليس للوكيل بالشراء أن يشتري للموكل أربعة أنواع من الأموال:1 - ليس للوكيل بالشراء أن يشتري ماله لموكله، يعني لو اشترى الوكيل بالشراء مال نفسه لموكله لا يصح شراؤه، ولو قال: له: اشتر مال نفسك لي؛ لأن الشخص الواحد ليس له أن يتولى طرفي العقد انظر شرح المادة (167) . الخ ( المادۃ: 1488 ج 3 ص 599 )۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1