کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد مرحوم شیر علی نے دو شادیاں کی تھیں، پہلی بیوی سے ہم چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں، ہماری والدہ کے انتقال کے بعد والد صاحب نے دوسری شادی کی، دوسری بیوی سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔
ہمارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ایک مکان نو(9)،نو (9) مرلے دونوں بیویوں کی اولاد کے درمیان تقسیم کرکے ہر ایک فریق کو باقاعدہ قبضہ دیدیا تھا، اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی والدہ کے جو چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں ان میں سے ایک بیٹے شیرولی اور ایک بیٹی ذکیہ کا انتقال والد کی حیات میں ہی ہوگیا تھا، تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ والد صاحب نے جو نو مرلے مکان ہم تین بیٹوں(سبز علی،اکبر علی، محمد ولی) اور چار بیٹیوں (یاسمین بی بی، پروین بی بی، خبوری،بس بی بی) کو دیا تھا، کیا اس مکان میں شیر ولی اور ذکیہ کی اولاد کا حصہ بنتا ہے،؟اگر بنتا ہے تو کتنا؟ اگر نہیں بنتا تو تفصیل سے جواب تحریر فرمائیں۔
صورتِ مسؤلہ میں اگر سائل کے والد نے مذکور بیٹے اور بیٹی کے انتقال کے بعد سائل کے بقیہ بھائی بہنوں کو مذکور مکان تقسیم کرکے باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ ان کے حوالہ کردیا تھا تو وہ اس کے مالک بن گئے ہیں، لہذا اب سائل کے مرحوم بھائی اور بہن کی اولاد کا اس مکان میں کوئی حصہ نہیں، البتہ اگر تمام ورثاء اپنی رضامندی سے اپنے حصص میں سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہوگا۔
کما فی الدر المحتار : ( و تتم ) الھبۃ (بالقبض) الکامل (و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔