کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے سسر نے اپنا ترکہ اپنی زندگی میں تقسیم کیا اور چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کے درمیان کمی وزیادتی کے ساتھ تقسیم کیا، اب وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کمی وزیادتی کے ساتھ تقسیم کرنے سے وہ گناہ گار تو نہیں ہوئے؟
بیٹے کو گھر کیسے ہبہ کیا جائے گھر کا سامان نکال کر یا ایسے ہی دے دیا جائے تو ہبہ ہوجائے گا؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر وہ شخص اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیمِ ِترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتاہے ، چنانچہ سائل کے سسر نے اگر اپنی جائیداد اس طور پر تقسیم کی ہوکہ بیٹے کو بہ نسبت بیٹیوں کے زیادہ حصہ دے کر اسے باقاعدہ اس کے حصہ پر مالکانہ قبضہ بھی دے دیا ہو، تو شرعاً بیٹا اس جائیداد کا مالک بن چکا ہے، اور اب اس جائیداد میں کسی دوسرے وارث کو حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل نہ ہوگا، جبکہ سائل کے سسر نے تقسیم میں یہ کمی زیادتی اگر کسی وارث کو مکمل طور پر محروم کرنے کی نیت سے نہ کی ہو، بلکہ بیٹے کی خدمت گزاری دینداری وغیرہ کی بناء پر اسے زیادہ حصہ دیا ہو، توایسا کرنے سے اگرچہ وہ گناہ گار نہ بھی ہوں، تاہم اگر اس کے پاس اب بھی کچھ مال وجائیداد موجود ہو، تو اسے چاہئیے کہ وہ اس جائیداد میں سے بیٹیوں کو مزید بھی کچھ دیدے، کیونکہ سب ہی اس کی اولاد ہیں، اور ان کی بھی دلجوئی ہوسکے۔
نیز زندگی میں مکان اگر بیٹے کو ہبہ کرنا ہو، تو ہبہ کی درستگی کے لئے مکان اپنے سازوسامان سے مکمل خالی کرکے یا اس سامان سمیت پورا مکان بیٹے کے قبضہ میں دینا ضروری ہے، بصورت ِدیگر فقط زبانی کلامی یا کاغذات میں مکان بیٹے کے نام کرنے سے یہ ہبہ شرعاً درست نہ ہوگا -
کما فی بدائع الصنائع : و ینبغی للرجل ان یعدل بین اولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ و تعالٰی ان اللہ یامر بالعدل و الاحسان الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 6 ، ص 127، ط : سعید )۔
و فی البحر الرائق : یکرہ تفضیل بعض الاولاد علی البعض فی الھبۃ حالۃ الصحۃ ( الی قولہ ) و فی الخلاصۃ المختار التسویۃ بین الذکر و الانثیٰ فی الھبۃ الخ ( کتاب الھبۃ ج 7 ، ص 288 ، ط : ماجدیہ )۔
و فی الھندیۃ : و لو وھب رجل شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض ( الی قولہ ) لاباس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل ما یعطی للابن و علیہ الفتوٰی الخ ( کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 391 ، ط : ماجدیہ )۔
و فی رد المحتار : و لو وھب شیئاً لاولادہ فی الصحۃ و اراد تفضیل البعض علی البعض روی عن ابی حنیفۃ لا باس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل الدین ( کتاب الھبۃ ، ج 4 ، ص 444 ، ط : سعید )۔
و فی الدر المحتار (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔