السلام علیکم
امید ہے کہ یہ ای میل آپ کو بہترین صحت میں پائے گی، محترم مفتی صاحب! میرے پاس ایک شخص کی پراپرٹی کے متعلق ایک نہایت ضروری مسئلہ ہے،ایک مسلمان شخص کی ایک پراپرٹی ہے، جس پر اس کے بقول جنات کے اثرات ہیں، اس کے اہلِ خانہ پر ان اثرات کا اثر ہوا ، وہ اور اس کی بیوی اور بچے مختلف آوازیں سنتے تھے، چیزوں کے ٹکرانے اور عجیب و غریب آوازوں کی گونج سنائی دیتی تھی، وہ کئی عاملوں کے پاس گئے، جس کے بعد کچھ عرصہ سکون رہا، لیکن چند ماہ بعد پھر وہی حالت ہو گئی،آخرکار انہوں نے گھر چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، حیرت کی بات یہ ہوئی کہ وہاں بھی وہی جنات ان کے پیچھے آگئے اور انہیں وہاں بھی تنگ کرنے لگے،اب مسئلہ یہ ہے کہ جس مکان سے وہ منتقل ہوئے ہیں وہ خالی ہے، اور اب وہاں ان کا ایک مددگار (نوکر) رہتا ہے، یہ دو منزلہ مکان ہے، اور نوکر اوپر والی منزل میں سوتا ہے، کئی بار ایسا ہوا کہ وہ شخص (نوکر) تقریباً گلا گھونٹے جانے جیسی کیفیت میں مبتلا ہوا، چونکہ وہ مکان اب خالی ہے، اس کے مالک نے ارادہ کیا ہے کہ اس پراپرٹی کو بیچ دے یا نیلام پر رکھ دے تاکہ کوئی خریدار مل جائے، اس کا سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس پراپرٹی کو بیچ سکتا ہے یا نیلامی پر رکھ سکتا ہے؟ جب کہ وہ جانتا ہے کہ اوپر والی منزل پر رات کے وقت اب بھی روزانہ آوازیں سنائی دیتی ہیں،کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہوگا یا نہیں؟ہم آپ کے مہربان جواب کے منتظر رہیں گے، ان شاء اللہ۔
واضح ہو کہ عیب دار پراپرٹی وغیرہ کو اس میں عیب و نقص بتلائے بغیر فروخت کرنا دھوکہ دہی کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام ہے، اور اس پر احادیث مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی اس مکان میں ایسی غیر مرئی یا غیر معمولی کیفیات موجود ہوں، اور مالک اس مذکور مکان کے نیلامی یا فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو اس پر لازم ہے کہ فروخت کرنے سے قبل خریدار کو حقیقتِ حال سے مطلع کر دے کہ اس مکان میں یہ کیفیت موجود ہے، اوراگر خریدار اس علم کے باوجود رضامندی سے خریدنے پر آمادہ ہو جائے تو ایسی صورت میں یہ بیع جائز اور درست ہوگی، بصورت دیگر مالک کا عیب کو ظاہر کیے بغیر مذکور مکان فروخت کرنا دھوکہ دہی کی وجہ سے شرعاً درست نہ ہوگا، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن لأن الغش حرام الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله لأن الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته، قال الصدر لا نأخذ به، قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا لأنه صغيرة، قلت: وفيه نظر لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة، بل الظاهر في تعليل كلام الصدر أن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة، وإن كان كبيرة كما في شرب المسكر (کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج 5،ص 47،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق: لا يحل له أن يبيع المعيب حتى يبين عيبه لقوله عليه السلام: «لا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا وفيه عيب إلا بينه له» رواه ابن ماجه وأحمد بمعناه «و مر عليه السلام برجل يبيع طعاما فأدخل يده فيه فإذا هو مبلول فقال من غشنا فليس منا» رواه مسلم وغيره «وكتب عليه السلام كتابا بعد ما باع فقال فيه هذا ما اشترى العداء بن خالد بن هودة من محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم اشترى منه عبدا أو أمة لا داء ولا غائلة ولا خبثة بيع المسلم للمسلم» رواه ابن ماجه والترمزی الخ(کتاب البیوع، باب خیار العیب، ج 4، ص 335، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1