میں اپنی زندگی میں میرے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے درمیان جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہوں، میں بیٹا اور بیٹی دونوں کو برابر دینا چاہتا ہوں، طریقہ ارشاد فرمادیں۔
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سےقبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں جائز تصرف کر سکتا ہے، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے، لہذا سائل کے ذمہ بھی اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا لازم نہیں، البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے اور یہ تقسیم ترکہ نہیں، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائے گا، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی اور بیوی کی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال وجائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصہ پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہوجائے، محض کاغذات میں نام کردینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں بیٹے اور بیٹی کو برابر اور یکساں رکھے، کسی کو کم ،کسی کو زیادہ نہ دے کہ دونوں ہی اس کی ا ولاد ہیں، تاہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری، محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے۔
کما قال اللہ تعالی: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ الآیۃ (آیۃ:ـ90 سورۃ النحل)۔
و فی بدائع الصنائع: وینبغی للرجل أن یعدل بین أولادہ فی النحلی لقولہ سبحانہ وتعالی "إن االلہ یأمر بالعدل والإحسان (إلی قالہ) ولأن فی التسویۃ تألیف القلوب والتفضیل یورث الوحشۃ بینھم فکانت التسویہ بینھم أولی ولو نحل بعضاً وحرم بعضاً جاز من طریق الحکم لأنہ تصرف فی خالص ملکہ لاحق لأحد فیہ الخ (کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط بانواع ج6 صـ 127 ط: سعید)۔
وفی الدر المختار: (وتتم) الھبۃ (بالقبض) الکامل (ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا وان شاغلا لا الخ(کتاب الھبۃ ج6 ـ 691-690 ط: سعید)۔