میں نے قسم اٹھائی ہے کہ ”اگر آئندہ میں نے فلان کام کیا تو میری گھر والی مجھ پر بہن کی طرح حرام ہو گی “یہ قسم میں نےتین(3) یاچار ( 4)بار الگ الگ کاموں کیلے اٹھائی اب اگر میں یہ قسم تھوڑ دوں دو مجھ پر کفارہ لازم ہوگا یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نےمذکور جملہ”اگرآئندہ میں نے فلاں کام کیا تو میری گھروالی مجھ پر بہن کی طرح حرام ہوگی“اگر بنیت طلاق کہا ہو تو کسی بھی شرط کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکردونوں کا نکاح فوراختم ہوجائیگا ،اور سائل کو چاہیئےکہ بقیہ کام بھی تجدیدنکاح سے پہلے کر لے، تاکہ تجدید نکاح کے بعدمذکور کاموں کی وجہ سے مزید طلاق واقع نہ ہو،تاہم اگر وہ دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا چاہتےہوں تو تجدید نکاح کرنا لازم ہوگا جس کی صورت یہ ہوگی کہ نئے حق مہر کی تقرری کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرلیں ، البتہ سائل کو آئندہ کےلئے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، تاہم بہتر یہ ہےکہ سائل کو اگر کوئی بہت سخت مجبوری درپیش نہ ہوتو شرط کی خلاف ورزی کرنے سے اجتناب کرے تاکہ طلاق جیسے ناپسندیدہ عمل سے بچا جاسکے ۔
کمافی البدائع:ولو قال: أنت علي حرام كأمي حمل على نيته؛ لأنه إذا ذكر مع التشبيه التحريم لم يحتمل معنى الكرامة فتعين التحريم، وهو يحتمل تحريم الظهار ويحتمل تحريم الطلاق والإيلاء فيرجع إلى نيته فإن لم يكن له نية يكون ظهارا؛ لأن حرف التشبيه يختص بالظهار فمطلق التحريم يحمل عليه الخ(کتاب الظہار، فصل في بيان الشرائط التي ترجع إلى المظاهر منه،ج3،ص231،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی الدر: والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب،( الی قولہ ) (يحتمل ردا،ونحو خلية برية حرام بائن) الخ
وفی الرد تحت( قولہ:حرام) ( الی قولہ) وإن كان الحرام في الأصل كناية يقع بها البائن لأنه لما غلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية، ولذا لم يتوقف على النية أو دلالة الحال،الخ(کتاب الطلاق، باب الکنایۃ،ج3، ص299، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفیہ ایضا: فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها الخ(کتاب الطلاق، باب التعلیق،ج3،ص355،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفی الھندیۃ: (والمنعقدة في وجوب الحفظ أربعة أنواع) نوع منها يجب إتمام البر فيها، وهو أن يعقد على فعل طاعة أمر به، أو امتناع عن معصية، وذلك فرض عليه قبل اليمين، وباليمين يزداد وكادة، ونوع لا يجوز حفظها، وهو أن يحلف على ترك طاعة، أو فعل معصية، ونوع يتخير فيه بين البر، والحنث، والحنث خير من البر فيندب فيه إلى الحنث، ونوع يستوي فيه البر، والحنث في الإباحة فيتخير بينهما، وحفظ اليمين أولى كذا في المبسوط لشمس الأئمة السرخسي الخ(کتاب الأیمان،الفصل الاول، ج2، ص52،ط: ماجدیۃ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0