وکیل بالشرا ء،کا موکل کے لیے چیز خرید کر کے واپس موکل سے خریدنا جائز ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں اگر وکیل بالشراء اپنے مؤکل کیلئے مطلوبہ چیز خرید کر اس پر قبضہ کرلے اور قبضہ کرنے کے بعد اپنے مؤکل سے اس چیز کی خریداری کا نیا عقد کرکے اس چیز پر قبضہ کی تجدید کرلے تو اس طرح معاملہ کرنا شرعا جائز اور درست ہے۔
کما فی البدایع: وجملة الكلام فيها أن يد المشتري قبل الشراء إما أن كانت يد ضمان، وإما أن كانت يد أمانة(الی قولہ) وإن كانت يد المشتري يد أمانة كيد الوديعة، والعارية لا يصير قابضا إلا أن يكون بحضرته، أو يذهب إلى حيث يتمكن من قبضه بالتخلي؛ لأن يد الأمانة ليست من جنس يد الضمان فلا يتناوبان(کتاب البیوع،فصل فی حکم البیع،ج5،ص248،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی درر الحکام: المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده الخ(الکتاب الحادی عشرفی الوکالۃ،الباب الثالث في بيان أحكام الوكالة،المادۃ 1463،ج3،ص561،ط:دار الجلیل)۔
وفی الدر: (وملك) بالقبول (بلا قبض جديد لو الموهوب في يد الموهوب له) ولو بغصب أو أمانة؛ لأنه حينئذ عامل لنفسه، والأصل أن القبضين إذا تجانسا ناب أحدهما عن الآخر، وإذا تغايرا ناب الأعلى عن الأدنى لا عكسه الخ
وفی الرد تحت (قوله: لا عكسه) فقبض الوديعة مع قبض الهبة يتجانسان لأنهما قبض أمانة ومع قبض الشراء يتغايران لأنه قبض ضمان فلا ينوب الأول عنه كما في المحيط الخ(کتاب الھبۃ،ج5،ص694،ط: ایچ ایم سعید)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1