آپس میں جھگڑے کے دوران شوہر نے بیوی سے کہا کہ اگر تم نے اب ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکالا تو میری طرف سے تمہیں تین طلاقیں، لیکن بیوی پھر بھی چپ نہیں ہوئی اور مسلسل جھگڑ تی رہی، اب اس صورت میں شرعی مسئلہ کیا ہوا ہوگا؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ طلاق اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کی جائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں شرعاً طلاق واقع ہو جائے گی، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے مذکور الفاظِ طلاق " اگرتم نے اب ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکالا تو میری طرف سے تمہیں تین طلاقیں ‘‘کہے ہوں اور اس کے بعد بیوی چپ ہونے کے بجائے مسسلسل جھگڑتی رہی ہو تو اس سے مذکور شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، و رنہ دونوں سخت گنہگار ہونگے، جبکہ عورت ایام ِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في الهندية : واذا اضافه الى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقاً مثل أن يقول لامرأته ان دخلت الدار فأنت طالق اھ (ج ا، ص 420، ط: ماجدية)۔
وفیہ ایضاً: ولو قال لها: إن كلمت فلانا فأنت طالق وقال لها أيضا: إن كلمت إنسانا فأنت طالق فكلم فلانا طلقت تطليقتين الخ (ج ا، ص 428، ط: ماجدية)۔
وفی الدر المختار: (وشرط للحنث في) قوله (إن خرجت مثلا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب (فعله فورا) لأن قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا ومدار الأيمان عليه، وهذه تسمى يمين الفور تفرد أبو حنيفة رحمه الله بإظهارها ولم يخالفه أحد.اھ (ج3۔ص 762-762، ط: سعید)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0