مولانا صاحب ! یہ ہے کہ میں نے ایک پلاٹ بھائی کے نام لیا تھا، سو فصید میری اپنی انویسٹمنٹ ہے ۔ اب میں وہ فروخت کرنا چاہتا ہوں، پر بھائی مسئلہ کھڑا کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں مذہبی پوائینٹ سے کیا کرنا چاہئے؟ میری پوزیشن یہ ہے کہ چار سال بے روزگار ہونے کی وجہ سے ہیند ٹو ماؤتھ ہو گیا ہوں۔ برائے مہربانی فوراً جواب ارسال کریں۔
اگر مذکور پلاٹ سائل نے اپنے ہی سرمایہ سے اپنی ذات کے لیے خریدا ہو اور محض کاغذوں میں اپنے بھائی کے نام کر دیا ہو تو شرعا یہ سائل ہی کا مملوک ہے اور اُسے اس میں ہر قسم کے تصرف کا اختیار حاصل ہے ، سائل کے بھائی کا اُسے بیچنے سے روکنا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ ورنہ اگر اس پلاٹ کی خریداری یا ھبہ وغیرہ کے حوالہ سے مزید بھی کچھ تفصیل ہو تو وہ پوری لکھ کر دوبارہ حکم شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1