میں محمد عمران قسطوں کا کام کرتا ہوں ،اور میرے پاس کوئی چیز موجود نہیں ہوتی، اب جیسے کسی نے کہا کہ موٹر سائیکل چاہیئے، اب موٹر سائیکل کی قیمت مارکیٹ میں ۴۰،۰۰۰ روپے ہے، اب ہم دونوں کا یہ طے پایا گیا کہ موٹر سائیکل قسطوں پر ۵۵،۰۰۰ روپے کی ملےگی، اب اس میں ۶ مہینے کا وقت طے ہوگیا، اگر ۷ یا ۸ مہینے بھی ہو جائیں ،تو میں جو رقم پہلے طے ہوئی ہے، وہی لوں گا، اضافی رقم نہیں لیتے،آیا کہ یہ کام اس طرح کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ اس گاڑی کے مکمل کاغذات جس کو گاڑی دی جارہی ہے ،اسی بندے کے نام کر کے دے دی جاتی ہے ، اب وہ اس گاڑی کا مالک ہے ،اب وہ اس کو بیچے یا کچھ بھی کرے ،یہ اس کا حق ہے۔ ہم سے جو طے ہوا ہے ،ہم صرف وہی رقم لیں گے یعنی ۵۵،۰۰۰ روپے۔ اسی طرح موبائلوں کا کام بھی ہے۔
۲۔ اسی طرح کپڑے کے کام میں جیسا کہ مارکیٹ میں کپڑا ۲۵ روپے میٹر ہے، میں ادھار میں 30 روپے میٹر دیتا ہوں لیکن جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے ،کہ میرے پاس کوئی بھی چیز حاضر میں موجود نہیں ہوتی، مجھ سے جو بھی جو چیز کہتا ہے میں اس کو خود خرید کے لا دیتا ہوں، اگر یہ کاروبار بالکل صحیح ہے تو اس میں ہماری راہ نمائی فرمائیں۔ اگر یہ غلط ہے تو برائے مہربانی سے کمائی ہوئی رقم کا کیا کریں ؟
۳۔ آج کل مارکیٹوں میں اس طرح کا روبار ہو رہا ہے کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو پیسے دیتے ہیں کہ فلاں چیز کے اوپر ہم آپ سے دس روپے لیں گے اور پیسے اس بندے کے حوالے کر دیتے ہیں۔ آیا یہ صحیح ہے یا غلط ہے؟
۱، ۲۔ اگر چیز ملکیت میں ہو تو خرید و فروخت کی وقت اس کا سامنے ہونا ضروری نہیں، بلکہ بغیر دیکھے بھی بیع درست ہو جاتی ہے، اگر چہ خرید نے والے کو دیکھنے کے بعد لینے یا نہ لینے کا اختیار ہوتا ہے ۔ اور اگر ملکیت میں ہی نہ ہو تو اس صورت میں تمام معاملات وعدۂ بیع کے طور پر طےکیے جائیں، اور چیز لانے کے بعد باضابطہ بیع کے ذریعہ اس کی توثیق اور ایفاءِ عہد کر لیا جائے، تو شرعا بھی یہ کاروبار درست ہو جائے گا۔
۳۔ تنقیح : اس سوال سے متعلق صورت مسئلہ کی مکمل وضاحت کر کے دوبارہ دارالافتاء بھیج ،دیں انشاء اللہ اس کا حکمِ شرعی بھی بیان کر دیا جائے گا۔
ففي الهداية شرح البداية: ومن اشترى شيئا لم يره فالبيع جائز وله الخيار إذا رآه إن شاء أخذه بجميع الثمن وإن شاء رده اھ (3/ 32)۔
وفي البحر الرائق: ألا ترى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل (إلی قوله) أن الأجل في نفسه ليس بمال فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصدا (6/ 125)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1