جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
سلام کے بعد عرض ہے کہ ہمیں ایک بہت اہم مسئلہ پیش آگیا ہے۔ جناب مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ کافی عرصے سے گاڑیوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ ہم ایک گاڑی نقد میں کم از کم 80 ہزار کی خریدتے ہیں، پھر اُس کو لمبی قسطوں پر دیتے ہیں ۔ اس گاڑی کا 20 ہزار لے کر گاڑی آگے بیچتے ہیں، اور تین سال تک اُس کی کل قیمت ایک لاکھ پچاس ہزار میں ادا کرنی پڑتی ہے ۔ جس پر بیچتے ہیں اُس کو اور کبھی کبھی اس کی قیمت قسطوں میں (ڈبل ) یعنی ایک لاکھ ساٹھ ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ کیا یہ مسئلہ جائزہے یعنی کا روبار جائز ہے یا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو کس صورت میں جائز ہو سکتا ہے؟ شکریہ
گاڑی قسطوں پر اس طریقے سے بیچنا کہ بوقتِ بیع اس کی قیمت متعین کرلی جائے ، اور یہ بھی متعین کر لیا جائے کہ یہ اقساط کتنے عرصہ چلیں گی ،اور یہ کہ فی قسط کتنی رقم دینی ہوگی، نیز یہ کہ کسی مجبوری وغیرہ سے قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر مزید کچھ زائد رقم بھی وصول نہ کی جائے ۔ تو اس طرح قسطوں پر بیچنا بلا شبہ جائز اور درست ہے،ورنہ نہیں۔
ففي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يقاطعه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 13)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1