کیا شرعی لحاظ سے وہ رقم جو معاملہ میں طے کرنے کے لئے (ٹوکن منی )دی جائے، اور وہ رقم اصل ادائیگی سے پہلے دی جائے ،(جیسے پہلی قسط) دونوں ایک ہیں، یہ پارٹی کچھ رقم معاملہ ہونے کے اشارے کے طور پر دیتی ہے (ٹوکن منی) لیکن بعد میں وہ یہ معاملہ خرید وفروخت کرنے سے انکار کر دیتی ہے ،تو کیا دوسری پارٹی کو وہ رقم (ٹوکن منی) واپس کر دینی چاہیئے ؟ یا اس کو یہ رقم منافع کے طور پر رکھ لینی چاہیئے؟ وہ کیا شرائط ہیں، جن کے تحت دوسری پارٹی کی یہ رقم رکھ سکتی ہے؟
بیعانہ جو عرف میں ٹوکن منی کہلاتا ہے، معاملہ کے ختم ہونے کی صورت میں اسے ضبط کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز اور اسے اصل مالک کو لوٹانا لازم ہے۔
ففی الموطأ: عن مالك عن الثقة عنده عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده :أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع العربان اھ (2/ 609) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1