کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے سلیم کے ساتھ مکان کا سودا کیا، لیکن زید کسی مجبوری کی وجہ سے پوری رقم ادا نہ کر سکا ، تو زید نے سودا منسوخ کرنا چاہا، سلیم نے وعدہ کیا کہ بیعانہ پورا واپس کروں گا، لیکن بعد میں انہوں نے کچھ رقم ضبط کرلی۔
۱۔ زید کیلئے جائز ہے کہ سلیم کیلئے بددعا کرے ؟
۲۔ قنوتِ نازلہ پڑھ کر بددعا کر سکتا ہے ؟
۳۔ قنوتِ نازلہ کا طریقہ کیا ہے؟ مفصل تحریر کریں۔
بیعانہ کی رقم ضبط کرنا جائز نہیں، اور پھر واپسی کا وعدہ کر کے اس کو روک لینا اور کسی مسلمان کی اتنی دل آزاری کرنا کہ وہ بدعاؤں پر اتر آئے ،اور بھی برا ہے، اس لئے اولاً تو مسمیٰ سلیم کو چاہئیے کہ مسمی زید کی پوری رقم اسے واپس کرے ،اور اپنی آخرت خراب نہ کرے۔
اور ثانیا : متعلقہ شخص کو چاہیئے کہ بد دعا کرنے کے بجائے اس کے لئے دعا کرے ،کہ وہ اس کا حق اداکر دے۔ جبکہ قنوتِ نازلہ فجر کی نماز میں رکوع سے اُٹھنے کے بعد دعا کرنے کو کہتے ہیں، اور اس کے لئے ادعیۂ مأثورہ بھی موجود ہیں۔
كما في صحيح الترغيب والترهيب:وعن أبي حميد الساعدي رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا يحل لمسلم أن يأخذ عصا بغير طيب نفس منه، قال ذلك لشدة ما حرم الله من مال المسلم على المسلم اھ (2/ 182)۔
وفي تنوير الأبصار: الغصب هو ازالة يد محقة باثبات يد مبطلة فى مال متقوم محترم قابل للنقل بغير اذن مالكه (إلى قوله) وحكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم مالكة (۶/ ۱۷۷، ۱۷۹)۔
وفي حاشية ابن عابدين: تحت (قوله فيقنت الإمام في الجهرية) (إلی قوله) والذي يظهر لي أن المقتدي يتابع إمامه إلا إذا جهر فيؤمن وأنه يقنت بعد الركوع لا قبله، بدليل أن ما استدل به الشافعي على قنوت الفجر وفيه التصريح بالقنوت بعد الركوع حمله علماؤنا على القنوت للنازلة اھ (2/ 11)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1