کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ہم نے ایک زمین خریدی، مذکورہ زمین میں ایک عورت اس کا بیٹا و شوہر جبکہ دو بھائی بطورِ میراث کے شریک ہیں، عقد کے وقت عورت موجود نہیں تھی، ہم نے بیع کے انعقاد سے پہلے عورت کی موجودگی کا مطالبہ کیا، جس پر عورت کے شوہر اور اور بیٹے نے کہا کہ ہم ہی اُس کی طرف سے بیع کے وکیل ہے، اور اس وکالت پر انہوں نے تین مرد گواہ بھی پیش کیے، وکالت کی بنیاد پر بیع ہوگئی، اور اُسی وقت زمین کی آدھی قیمت ادا کر دی گئی ۔جبکہ بقایاجات کو قسطوں پر ادا کرنا تھا، اب بیع کے دو سال بعد عورت نے اُس زمین میں اپنے حصے کا دعویٰ کر دیا، جس کے کچھ دن بعد وہ عورت وفات پاگئی، عورت کی وفات کے بعد اب اسکا وہی بیٹا (جو وکیل مقرر ہوا تھا) مذکورہ حصے پر دعویدار ہے۔ براہِ قرآن و سنت کی روشنی میں اس دعویٰ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یہ دعویٰ باطل ہے یا جائز؟
نوٹ: عورت کو ساری صورت حال کا علم تھا، لیکن اس کے باوجود وہ دو سال تک خاموش رہی۔
جب مذکور عورت کی طرف سے شوہر اور بیٹے کو وکیل بالبیع بنانے کے تین گواہ موجود نہیں، اور خریدار دو سال تک اس میں مالکانہ تصرفات بھی کرتا رہا ہے، اور عورت معلوم ہونے کے باوجود دو سال تک اسپر خاموش بھی رہی ،اور پھر دعویٰ بھی اس نے قاضی اور جج کی مجلس میں نہیں کیا ،تو اس دعوے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، اس لئے بیٹا جو وکیل بالبیع بھی ہے، اس کا اس غیر معتبر دعویٰ کو لیکر خریدار کو پریشان کرنا قطعاً درست نہیں، اسے اپنے اس غلط طرز عمل سے احتراز لازم ہے۔
كما فى الفتاوى الهندية: ومنها مجلس القضاء فالدعوى في غير مجلس القضاء لا تصح حتى لا يستحق على المدعى عليه جوابه هكذا في الكافي (4/ 2)۔
وفي حاشية ابن عابدين: مطلب المواضع التي يكون فيها السكوت كالقول (إلی قوله) سكوت الموقوف عليه قبول ويرتد برده. (4/ 482)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1