کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مثلاً ایک چیز کو بارہ ہزار میں فروخت کیا ، اور بیعانہ دو ہزار روپے دے دیا، ایک دو دن کے وعدہ پر کہ اپنی خریدی ہوی چیز اٹھاؤنگا، اور دو دن کے بجائے اُس میں تقریباً مہینہ لگ جائے، اور وہ چیز دوسرے کے اوپر آٹھ ہزار روپے میں فروخت کریں ،تقریباً"چار ہزار "روپے نقصان میں فروخت کیا ، اب پہلے والے سے دو ہزار روپے کا بیعانہ روکنا کیسا ہے؟ نقصان تو چار ہزار کا ہو گیا ۔ شرعی حیثیت سے واضح کریں، مہربانی ہوگی۔
بارہ ہزار کے عوض خریدنے والا اس چیز کا مالک ہو چکا ہے، اور وہی اس میں تصرف کر سکتا ہے، بیچنے والے کو اس میں تصرف کا اختیار نہیں، البتہ اصل مالک (یعنی اس سامان کو بارہ ہزار میں خریدنے والے) کے اس سامان کو اٹھانے میں تاخیر کرنے کی وجہ سے اس کی اجازت کے بغیر بیچنے والے نے جب آگے دوسرے شخص کو بیچ دیا ہے ،تو اب اس اصل مالک یعنی مشترئ (خریدار) اول کو یہ بھی اختیار ہے، اس دوسرے عقد کو نافذ نہ کرے، بلکہ اپنا سامان واپس لوٹا کر بائع کو بقیہ دس ہزار روپے ادا کرے، اور اگر وہ سامان مشترئ دوم کے پاس موجود نہ ہو تو پھر اپنے عقدِ اول کو فسخ کر دے ،تو اس صورت میں بائع اسے دو ہزار بیعانہ والے واپس کر دے،ان کا روکنا جائز نہیں، اور نقصان پورا بائع یعنی بیچنے والے کا ہوگا ۔
کمافي الدر المختار: (وإذا وجدا لزم البيع) بلا خيار اھ (4/ 528)۔
وفي حاشية ابن عابدين: ولو باعه البائع فمات عند المشتري الثاني فللأول فسخ البيع وله تضمين المشتري الثاني فيرجع بالثمن على البائع إن كان نقده اهـ. (إلی قوله) ويظهر منه ومما قبله أنه يبقى على ملك المشتري الأول فله أخذه من الثاني لو قائما، وتضمينه لو هالكا (5/ 149) ۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1