کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا شراب کا اسلام میں بیچنا حرام ہے؟ بہت سے مسلمانوں کے پاس ایسی کاروباری جگہیں ہیں ،جہاں پر شراب بیچی جاتی ہے، کیا اس طرح کمائی اسلام میں قابل قبول نہیں ہے؟
شراب کی حرمت نصِ قطعی سے ثابت ہے، اس لئے اس کا پینا اور اس کی خرید وفروخت شرعاً ناجائز وحرام ہے ،اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کا اپنے استعمال میں لانا بھی جائز نہیں۔
اس حرامِ شرعی کے کاروبار کے لئے مکان ودکان کرایہ پر دینا بھی معاونت علی المعاصی میں داخل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز وحرام ہے، جس سے بہرحال احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " من شرب الخمر فاجلدوه فإن عاد في الرابعة فاقتلوه " قال : ثم أتي النبي صلى الله عليه وسلم بعد ذلك برجل قد شرب في الرابعة فضربه ولم يقتله . رواه الترمذي (2/ 323)۔
وفي أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى ﴿وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ﴾ نهى عن معاونة غيرنا على معاصى اللّه تعالى اھ (3/ 296)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1