کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص خریدار کو پہلے شئے مملوکہ کی جو قیمت بتائے ادھار کی شرط پر اس قیمت میں زیادتی کر دے ،اور نقد کی صورت میں مثلاً اس نے ایک روپیہ میٹر بتایا ،تو سو میٹر پر سو روپے بنتے ہیں، مگر ایک ماہ ادھار کی صورت میں وہ فی میٹر ڈیڑھ روپے کا حساب لگائے آیا یہ زیادتی جائز ہے یا نہیں ؟ آیا یہ ربو میں تو داخل نہیں؟ تشفی بخش جواب دیں۔ شکریہ!
بائع اور مشتری کے درمیان عقد بیع طے کرنے کیلئے پہلی ہی مجلس میں اگر یہ بات طے ہو جائے کہ یہ معاملہ ادھار پر ہوگا ۔
(۲):اس کی مثلاً ایک سال تک بارہ قسطیں ہوں گی۔
(۳) ؛ ہر قسط میں اتنی رقم دی جائے گی۔
(۴): پھر اگر کوئی قسط کسی مجبوری وغیرہ کی وجہ سے اپنے وقت پر ادا نہ ہو سکے تو اس تاخیر کی وجہ سے چارجز اور جرمانہ وغیرہ وصول نہ کیا جائے، چنانچہ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو معاملہ کیا جائے گا شرعاً جائز اور درست ہے اور ادھار معاملہ کی وجہ سے نقد مقابلہ میں بائع کو جتنی رقم زائد وصول ہوئی ہے یہ نا جائز اور سود بھی نہیں۔ لہٰذا اگر ادھا رہی معاملہ کرنا ہو تو ان شرائط کو ملحوظ رکھ کر کیا جائے ۔
ففي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 13) والله أعلم بالصواب!
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1