کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کاروباری ضرورت کے لئے اسلامی بینک سے "لوڈنگ سوزوکی پک اپ "اجارہ کی بنیاد پر لی جا سکتی ہے، تکافل (اسلامی انشورنس) کے بارے میں علماءِ کرام کیا فرماتے ہیں، کیونکہ اجارہ پر گاڑی لینے کے لئے تکافل ضروری ہے،اگر کسی مہینے کرایے کا چیک واپس ہو جائے، تو بینک جرمانہ وصول کرتا ہے ،جو ان کے خیراتی فنڈ جمع میں جمع ہو جاتا ہے، اور بقول بینکر ،وہ صدقہ کیا جاتا ہے،اس کا کیا حکم ہے ؟
کسی مستند دارالعلوم کے اجتہادی یا اختلافی مسئلہ ہر عمل کرنے سے گناہ کی صورت میں عام مسلمان گناہ گار ہوگا، یا وہ بری الذمہ ہوگا ؟جزاک اللہ
1:ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک اور بینک اسلامی کے ساتھ معاملات کرنا اور ان سے اجارہ کی بنیاد پر گاڑی وغیرہ لینا جائز ہے ۔
2: تکافل مروجہ سودی انشورنس کا شرعی متبادل ہے، جس میں ربا و قمار اور غرر کا دخل نہیں ہوتا، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ’’تکافل‘‘ کے نام سے مشہور ادارے ماہر علماءِ کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہے ہیں، اس لئے ایسے اداروں کے ساتھ معاملات کرنا یا گاڑی کا تکافل کرانا جائز ہے ، پھر پاک قطر تکافل کمپنی کا طرز ِعمل چونکہ مستند علماءِ کرام کی نگرانی میں ہے، اسلئے اگر کوئی بینک ادارے کیساتھ تکافل کا معاملہ کرتا ہو تو اس کے واسطے سے اجارے کا عمل انجام دینا جائز ہے۔
3:یہ معاہدہ محض اپنے صارف کو بر وقت ادائیگی کا پابند بنانے کیلئے ہوتا ہے، اس پر شرعاً سودیا جرمانے کا اطلاق درست نہیں، کیونکہ صارف کی طرف سے خیرات کرنے کا وعدہ ہے ،جس سے عقد کی صحت پر اثر نہیں پڑتا ۔
4:عام مسلمان بری الذمہ ہوگا ۔
كما في مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من أفتي بغير علم كان إثمه على من أفتاه (1/ 52) ۔