کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک شخص دکاندار ہے، اور ایک چیز کو نقد پیسے پر ۲۰ روپے کا فروخت کرتا ہے ،اور ادھار پر ۲۵ روپے کا فروخت کرتا ہے، لیکن مشتری کو یہ معلوم نہیں کہ ۲۰ روپے کی چیز ۲۵ روپے کی مجھے دی گئی ہے۔کیا یہ بیع جائز ہے یا نہیں؟
نقد کے مقابلہ میں ادھار یا قسطوں پر بیچنے کی صورت میں زیادہ قیمت پر بیع کرنا شرعاً جائز اور درست ہے بشرطیکہ مجلس عقد میں تعین قیمت کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی تعیین کر لی جائے کہ بیع نقد ہوگی، یا ادھار۔
ففي مصنف عبد الرزاق: عن قتادة عن بن المسيب قالوا لا بأس بأن يقول ابيعك هذا الثوب بعشرة إلى شهر أو بعشرين إلى شهرين فباعه على أحدهما قبل أن يفارقه فلا بأس به اھ (8/ 136)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد (إلی قوله) وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اھ (13/ 13) واللہ أعلم بالصواب!
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1