السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ میں نے کاروبا ر میں کچھ لوگوں کے ساتھ پیسہ لگا یا تھا ۔ کاروبار کو کافی نقصان پہنچا جس کی وجہ سے سرمایہ کار سرمایہ کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ میرے پاس ادائیگی کے پیسے نہیں ہیں ۔ کیا میں اپنا گھر کسی کو دو سے تین سال کے لئے گروی پر دے سکتاہوں ؟ میں اس سے کچھ ادائیگی لے لوں ، جبکہ گھر کی ویلیو ایک کروڑ سے زیادہ ہے ، یہ ادائیگی لیکر میں سرمایہ کاروں کو دے دوں گا اور خود کرایہ پر رہونگا ۔ جس کو گھر گروی دے دوں اس سے کتنا کرایہ لینا چا ہیئے یا جو رقم 1500000لوں تو پھر اس سے کرایہ نہ لوں ۔ میری سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کروں ؟ براہ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں آپ کے ابتدائی جواب کا انتظار ہے ۔ حسیب سبحانی
واضح ہو کہ شیءِ مرہون ( گروی پر رکھی ہوئی چیز ) مرتہن کے پاس امانت ہوتی ہے اور مرتہن کا حق اس سے متعلق ہونے کی وجہ سے راہن کا اس سے انتفاع شرعاً جائز نہیں ہوتا ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے قرض کے بدلے گروی رکھوائے گئے گھر کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ، اور نہ ہی مرتہن کے لیے دئیے ہوئے قرض کے بدلے اس سے کسی بھی قسم کا نفع لینا جائز،بلکہ یہ سود کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے ۔
کما فی مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر: (وليس للمرتهن الانتفاع بالرهن) باستخدام ولا بسكنى ولا بلبس إلا بإذن المالك لأن حق المرتهن الحبس إلى أن يستوفى دينه دون الانتفاع (ولا إجارته ولا إعارته) أي ليس للمرتهن الانتفاع بإجارة أو بإعارة إذا لم يكن له الانتفاع بنفسه فلا يكون مالكا لتسليط الغير عليه إلا بإذن الراهن. وفي المنح وعن عبد الله بن محمد بن مسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أن من ارتهن شيئا لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن الراهن لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة التي استوفى فضلا فيكون ربا وهذا أمر عظيم كذا رأيت منقولا بهذا اللفظ وعزاه إلى الجامع لمجد الأئمة السرخسي قلت وهو مخالف لكلام عامة المعتبرات ففي الخانية رجل رهن شاة وأباح للمرتهن أن يشرب لبنها كان للمرتهن أن يشرب ويأكل ولا يكون ضامنا إلخ ( کتاب الرھن، ج 2، ص 588، ط دار احیاء الترث العربی )-
و فی الدر المختار : (لا انتفاع به مطلقا) لا باستخدام، ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة، سواء كان من مرتهن أو راهن (إلا بإذن) كل للآخر، وقيل لا يحل للمرتهن لأنه ربا، وقيل إن شرطه كان ربا وإلا لا. وفي الأشباه والجواهر: أباح الراهن للمرتهن أكل الثمار أو سكنى الدار أو لبن الشاة المرهونة فأكلهالم يضمن وله منعه، ثم أفاد في الأشباه أنه يكره للمرتهن الانتفاع بذلك، وسيجيء آخر الرهن إلخ
و فی رد المحتار تحت (قوله وقيل لا يحل للمرتهن) قال في المنح: وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، وهذا أمر عظيم إلخ ( کتاب الرھن، ج 6، ص 482، ط دار الفکر بیروت )-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1