کیا فرماتے ہیں علماءِ دینِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک فرد اپنی زندگی میں اپنے کسی بیٹے ، بیٹی ، دوست یا عزیز کو اپنی ملکیت سے کوئی چیز بصورت نقدی ، پلاٹ ، مکان یا دکان تحفۃً دے سکتا ہے ؟ اگر د یدے تو کیا واہب کی وفات کے بعد اس چیز پر ترکہ وراثت کے احکام لاگو ہوں گے جبکہ ہبہ کی گئی چیز پر موهوب لہ کو قبضہ حاصل ہو چکا ہو؟
(۲) کیا ایک مالک کسی معقول شرعی وجہ کی بناء پر اپنے کسی بیٹے ، بیٹی وغیرہ کو ہبہ میں کم بیش دے سکتا ہے ؟ وہ کون سی شرعی منقولات ہیں جن پر تحفہ یا ہبہ میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے ؟ جبکہ یہ ہبہ اولاد کے درمیان ہو۔ حوالہ ملتا ہے؟
(۳) واضح رہے کہ ایک باپ اپنی وراثت یا ترکہ میں سے کسی شرعی وارث کو بالکلیہ محروم نہ کرے بلکہ حقِ خدمت، فرمانبرداری اور صالحیت کی بناء پر کم و بیش دے سکتا ہے جب کہ اس کے پاس یہ جواز موجود ہو کہ دیگر بیٹے، بیٹیاں اپنی ذاتی ملکیت اور کمرشل ملکیت کا مالک ہیں اور مالی طور پر فارغ البال ہیں ۔ تو ایک بیٹے کو جو کہ باپ کے زیر کفالت ہو اپنی خدمت کے صلہ میں مقابلۃً زیادہ ملکیت کی چیز ہبہ کر دیں اور دلیل دیں کہ اس سے کسی کے ساتھ نا انصافی مقصود نہیں تو کیا یہ شرعاً جائز ہے ؟ جبکہ مذکور بیٹا تمام آمدن باپ کو دے رہا ہو اور دیگر اولاد اپنے والد کی کوئی مالی معاونت نہ کر رہی ہو۔ کیا مذاکرہ بالا صورت میں بھی باپ ہدیہ اور ہبہ میں بھی برابری کا پابند ہے۔ قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور تمام صورتیں اختیار کرنے کی شرعاً گنجائش ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے، اب اگر کوئی فرد اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد وغیرہ ورثاء میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ جائز ہے اور یہ ہبہ کہلاتا ہے جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازہ کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لئے جو کچھ رکھنا چاہے وہ کچھ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد کو اپنی اولاد اور بیوی کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کر کے اس پر انہیں با ضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دے۔ تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی درست اور تام ہو سکے۔ محض کاغذوں میں نام کرنا کافی نہیں۔ اور ہبہ کے نام ہونے کے بعد واہب کی وفات کے بعد میراث کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور عطاء میں سب کو یکساں اور برابر رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے، البتہ کسی کی خدمت گزاری، محتا جنگی ، دینداری یا کما کر دینے وغیرہ کی بناء پر اُسے دوسرے ورثاء کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اُسے اختیار ہے، مگر بلا وجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے۔ امید ہے اس تفصیل سے سائل کے تمام سوالات کا جواب ہو گیا ہو گا۔
كما في الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك(إلی قوله)لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينھم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى اھ (4/ 391)۔
وفي الدر المختار: (وتتم) الھبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامهااھ (5/ 690)