وقف

خاوند کا بیوی کو حق مہر میں دیا گیامکان وقف کرنا -یا اس میں تصرفات کرنا

فتوی نمبر :
80774
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / امانات / وقف

خاوند کا بیوی کو حق مہر میں دیا گیامکان وقف کرنا -یا اس میں تصرفات کرنا

جناب عالی ! بعد از سلام مؤدبانہ گذارش یہ ہے کہ میں ایک ضعیف العمر بیوہ خاتون ہوں ، درجِ ذیل مسئلہ در پیش ہے،آپ سے التماس ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں حل فرمائیں۔
حضرت صاحب !عرضِ خدمت یہ ہے کہ 26 فروری 1976 ء کو میری شادی کراچی میں ایک شخص بنام تاج دین ولدِ شاہ دین سے سرانجام پائی، شادی کے موقع پر تاج دین نے اپنا ر ہائشی مکان جس کا رقبہ تقریباً 200 گز ہے، مجھے بطور حقِ مہر گفٹ کر دیا ، جس کا اندراج نکاح نامہ کے خصوصی کالم میں بطورِ حق مہر موجود ہے ، علاوہ ازیں نکاح کے موقع پر تاج دین ولد شاہ دین نے علیحدہ سے اسٹامپ پیپر پر بھی گواہان کے سامنے مذکورہ جائیداد و مکان نمبر 246-MIIE C رقبہ 200 گز بطور حق مہر لکھ کر دیا،جس کا ثبوت میرے پاس محفوظ ہے، حضرت صاحب! بعد ازاں 15 مئی 1978ء کو تاج دین ولد شاہ دین نے مجھے طلاق دے دی، طلاق زبانی دی تھی جس کے بعد ہمارے درمیان علیحدگی ہوگئی، ہماری کوئی اولاد نہ تھی،عدت پوری ہونے کے بعد میرے خاندان والوں نے میری 24 نومبر 1978ء کو دوسری شادی بنام منصب علی سے کر دی ،دوسرے شوہر منصب علی سے میرے تین بچے ہوئے، جن کے نام بالترتیب یہ ہیں: (۱) شمیم اختر (بیٹی) (۲) :ثمینہ (بیٹی)، (۳) :تیمور (بیٹا)، 10 جنوری 1979 یعنی دوسری شادی کے تقریباً 45 دن بعد میں نے اپنے سابقہ شوہر تاج دین ولد شاہ دین سے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ مکان بطور حق مہر آپ مجھے لکھ کر دے چکے ہیں ،مگر تا حال آپ نے قبضہ نہیں دیا مجھے ضرورت ہے مجھے فور اًمکان خالی کر کے قبضہ دے دیں، 15 فروری 1979ء کو میرے ( سابقہ ) شوہر تاج دین ولد شاہ دین نے رابطہ کر کے یہ موقف اختیار کیا کہ میں مکان کا قبضہ دینے کے لئے تیار ہوں، لیکن اگر آپ نے یہ جگہ کرایہ پر ہی دینی ہے ،تو مجھے ہی رہنے دیں ،میں اس مکان کا کرایہ آپ کو دیتار ہونگا، اور اس جگہ کی دیکھ بھال بھی کرتا رہونگا ، جب آپ کہیں گے مکان خالی کر کے قبضہ آپ کے حوالے کر دونگا ۔ چنانچہ باہمی رضا مندی سے 100 روپے ماہانہ کرایہ کے بعوض فروری 1979ء تا فروری 1980 ء تک کا ایک سال کا یکمشت کرایہ کل مبلغ 1200 روپے سالانہ ایڈوانس کرایہ تاج دین ولد شاہ دین نے ادا کیا، یہ معاہدہ زبانی طے ہوا تھا ، بعد ازاں مارچ 1980ء تا جنوری 1981 ء تک کا ماہانہ کرایہ 150 روپے کے حساب سے کل 11 ماہ کا کرایہ ایڈوانس مبلغ 1650 روپے تاج دین ولد شاہ دین نے مجھے ادا کیا۔ فروری 1981 ء کو میں نے تاج دین ولد شاہ دین سے اپنے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ کہیں آپ مکان پر بد نیت نہ ہو جاؤ، اس لئے تحریری معاہدہ برائے کرایہ داری کر لوتا کہ سند رہے ،اور بوقتِ ضرورت کام آئے ۔ چنانچہ تاج دین ولد شاہ دین نے با قاعدہ اسٹامپ پیپر پر 16 فروری 1981 کو بطور کرایہ دار بیان حلفی کورٹ سے تصدیق و مہر لگوا کر اپنے شناختی کارڈ کی کاپی کے ہمراہ مجھے دے دیا، ( جو کہ بطور ثبوت میرے پاس محفوظ ہے ) اور تاج دین ولد شاہ دین نے فروری 1981ء تا فروری 1982ء تک کا سالانہ کرایہ ایڈوانس یکمشت ادا کر دیا،بعد ازاں تاج دین ولد شاہ دین اپنا کرایہ با قاعدگی سے ادا کرتا رہا، نیک نیتی کے پیش نظر نہ کبھی تاج دین ولد شاہ دین نے کرایہ کی رسید طلب کی اور نہ ہی میں نے باقاعدہ کوئی کرایہ وصولی کی رسید تاج دین ولد شاہ دین کو بنا کر دی،وقت گذرتا چلا گیا، میرے علم میں یہ بات آئی کہ تاج دین ولد شاہ دین نے اپنی گذر بسر کے لئے مکان کا کچھ حصہ خود سے بھی کرایہ پر دے رکھا ہے۔ مگر میں نے اس کی مخالفت نہ کی، چونکہ مجھے تاج دین ولد شاہ دین پر بھروسہ تھا،گذشتہ چند سال پہلے تاج دین ولد شاہ دین کا انتقال ہو گیا ہے، تاج دین نے انتقال سے پہلے ایک بے سہارا خاتون مسماۃ ثریا کو مکان کا کچھ حصہ کرایہ پر دے رکھا تھا،تاج دین کے انتقال کے بعد ثریا نے مجھ سے رابطہ کیا اور اپنی مجبوریاں بیان کیں ,مجھے ہمدردی ہوگئی ,میں نے اس بے سہارا عورت کو بغیر کرایہ کے مکان میں رہنے کی اجازت دے دی، مگر یہ شرط رکھی کہ آپ مکان کی دیکھ بھال بھی کرو گی ،پچھلے کئی سالوں سے ثریا بغیر کرایہ کے میرے مکان میں رہ رہی ہے، بس اب یہ ہمدردی ہی میرے لئے وبالِ جان بن گئی ہے۔ میں متعدد بار ثریا سے مکان خالی کرنے کا تقاضہ کر چکی ہوں، مگر ہر بار وہ بڑی خوبصورتی سے نت نئے بہانے بنا کر مجھے بیوقوف بناتی رہی ہے،آخر مجھ پر یہ حقیقت چند روز قبل ہی آشکار ہوئی ہے کہ ثریا نے مجھے بتائے بغیر میرے علم میں لائے بغیر کورٹ میں اس جائیداد سے متعلق کوئی کیس دائر کر رکھا ہے۔ جب میں نے مزید تحقیق کی اور ایک وکیل کے ذریعہ چھان بین کروائی تو معاملہ یہ پتہ چلا کہ چند سال پہلے سے ہی ثریا نے متعلقہ سول عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ جس میں اس نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس جگہ کا تعمیر شدہ تقریباً 42 گز کا حصہ مرحوم تاج دین ولد شاہ دین اپنی حیاتی میں اسے زبانی گفٹ کر چکا ہے۔ جبکہ ثریا نے یہ مقدمہ کسی مسجد کی کمیٹی کے عہدیداروں کے خلاف دائر کر رکھا ہے۔ اس مقدمہ میں مسجد کمیٹی کے عہدیداروں کا یہ موقف معلوم ہوا ہے کہ مرحوم مرنے سے قبل یہ جگہ کل رقبہ 200 گز مسجد کو وقف کر گیا ہے۔ ان تمام حالات واقعات کے مشاہدہ کے بعد میں سخت پریشان ہوگئی ہوں ۔ آخر انسان اعتبار کرے بھی تو کس پر ؟
جناب مفتی محترم میں ایک بیوہ خاتون ہوں, میری بچیاں اپنے گھروں کی ہوگئی ہیں۔ زندگی کے ان مشکل آخری ایام میں گذر اوقات کے لئے میرے لئے یہ جائیداد ہی میرا کل سرمایہ ہے،اس تفصیلی کہانی کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے آپ میرے درجِ ذیل سوالوں کے لئے تعلیمات فرمائیں ۔ نیز اگر میرے مفاد میں کوئی رائے ہو تو اس کا اظہار بھی ہمدردانہ طور پر ضرور فرمائیں۔ سوال نمبر۱: میرا سابقہ شوہر تاج دین ولد شاہ دین مرحوم مکان 246-C رقبہ 200 گز ( بطورِ حق مہر جو کہ نکاح نامہ کی رو سے تحریر ہے ) مجھے تحفہ دے چکا،میں اس مکان کی قانونی وارث و مالک ہوں ۔ کیا مرحوم میرا یہ مکان میری اجازت و مرضی کے بغیر کسی اور کو گفٹ یا وقف کر سکتا تھا ؟
سوال نمبر ۲: میرے پاس تمام ثبوت و گواہان موجود ہیں میں اپنے حق کے حصول کے لئے عدالتی چارہ جوئی کرنا چاہتی ہوں تا کہ مجھے میرا حق مل سکے۔ کیا اسلام کی تعلیمات میں میرے لئے کوئی ممانعت تو نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ کا بیان اور منسلکہ دستا ویزات کی نقول اگر واقعۃً درست اور مطابقِ اصل ہوں ،تو اس صورت میں مذکور مکان نمبر 246-MIIE C واقع گلی نمبر 35 محمدی روڈ شیر شاہ کالونی سائلہ مسماۃ سائرہ بیگم بنت محمد سراج کا حق مہر ہے ،اور وہ بلا شرکتِ غیر اس کی مالک اور اس میں تصرفات کی خود مختار ہے،حق مہر میں دینے کے بعد تاج دین مرحوم نہ تو کسی مسجد پر وقف کرنے کا مختار تھا ،اور نہ کسی دوسرے کو ہبہ کرنے کا مجاز رہا ہے۔ بلکہ وقوعِ طلاق کے بعد اس کی حیثیت محض ایک کرایہ دار کی تھی جیسا کہ منسلکہ کا غذات سے بھی بخوبی معلوم ہو رہا ہے، اس لئے کسی مسجد کمیٹی یا دوسرے شخص کا اس مکان پر اپنے حقوق کا دعویٰ کرنا درست نہیں، انہیں اپنے اپنے باطل دعویٰ سے احتراز لازم ہے، اور اگر وہ باوجود سمجھانے کے باز نہ آتے ہوں، تو ایسی صورت میں سائلہ اپنے پاس موجود تمام ثبوت اور گواہوں کو عدالت میں پیش کر کے قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ اپنا حق وصول کرنے کی مجاز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (قوله: وشرطه شرط سائر التبرعات) أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا اھ (4/ 340)۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: أن يكون مملوكاً للواهب: فلا تنفذ هبة مال الغير بغير إذنه، لاستحالة تمليك ما ليس بمملوك اھ (5/ 3990)۔
وفي بدائع الصنائع: ومنها أن يكون مملوكا للواهب فلا تجوز هبة مال الغير بغير إذنه لاستحالة تمليك ما ليس بمملوك اھ (6/ 119)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
لطف اللہ نصيب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80774کی تصدیق کریں
0     382
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مکان وقف کرنے کی صورت میں پڑوسی شفعہ کرسکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   وقف 1
  • مسجد کا پانی گھر میں استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   وقف 3
  • مرحوم کے وقف کرنے کے بعد ورثاء کاموقوفہ زمین پر قبضہ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   وقف 0
  • اہلِ میت کے لیے کمیٹی کی شکل میں کھانے پینے کا انتظام کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   وقف 0
  • واقف کا مقرر کردہ متولی اور مہتمم کو تبدیل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   وقف 2
  • محکمہ اوقاف کو دی ہوئی زمین میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مسجد کی وقف جگہ میں خرید و فروخت کے لئے اسٹال لگانا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • ٹرسٹ کو کون کون سی مد کی رقم دے سکتے ہیں

    یونیکوڈ   وقف 0
  • زانی شخص کے بنائے ہوئے مسجد میں نماز پڑھنا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • عیدگاہ کی جگہ پر مدرسہ بنانے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • بے اولاد خاتون کا اپنا مکان ٹرسٹ کو دینے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مسجد بننے کے بعد اسے فروخت کردینے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مسجد کی رقم کاوربار میں لگانا

    یونیکوڈ   وقف 1
  • مدرسے کی وقف زمین کو فروخت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • ایک مسجد کے غیر آباد ہونے کے بعد اس کی اشیاء کو دوسری نئی مسجد میں صرف کرنا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • عیدگاہ کے لیے وقف شدہ زمین میں اسی سال بعد پوتے کے لئے وراثت کا دعویٰ کرنا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • اکھاڑہ کے لئے وقف کی گئی زمین کو مسجد کا حصہ بنانا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • ایک مسجد کا چندہ دوسری مسجد میں خرچ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • میت کمیٹی سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • قبرستان سے سبز گھاس کاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مدرسہ سے لیا گیا قرض واپس ادا کرنے کیلئے مدرسہ پر زمین فروخت کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   وقف 0
  • مہتمم کا مدرسہ کی رقم اور اشیاء ذاتی استعمال میں لانا

    یونیکوڈ   وقف 0
  • موقوفہ مسجد منہدم کرکے پارک بنانے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
  • کیا بلڈنگ کے نیچے مسجد بنانا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   وقف 1
  • مسجد کی بجلی سے موبائل ری چارج کرکے باکس میں کچھ رقم ڈالنے کا حکم

    یونیکوڈ   وقف 0
Related Topics متعلقه موضوعات