کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی کو اس کے والد کی طرف سے ایک گائے ملی تھی، اس طور پر کہ اس سے حاصل ہونے والا دودھ ہم مشترکہ طور پر استعمال کرتے تھے،اور گائے دیتے وقت بچے ساتھ نہیں تھے، اور میرے سسر نے گائے کی قیمت یا اس کے بچے وغیرہ کی ملکیت میری بیوی یعنی اپنی بیٹی کی قرار دی تھی، بعد میں والد صاحب نے وہ گائے فروخت کر دی ،اور اس کے بعد مذکور گائے کے بچے بڑے ہو کر دودھ دینے لگے ،تو والد صاحب نے دوسری گائے بھی فروخت کر دی،اور دونوں گائیوں کی قیمت جو تقریباً 40 ہزار تک بنتی تھی ، مشتر کہ گھریلو ضروریات میں خرچ کر دی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ میری بیوی مذکور فروخت شدہ گائیوں کی قیمت (رقم) کی حقدار ہے یا نہیں؟ جبکہ بقول والد صاحب مذکور گائیوں کی پرورش اور دیکھ بال کی بناء پر وہ خود (والد صاحب) اس رقم کا حقدار ہے۔
(۲): اسی طرح میرے والدین نے میری بیوی اور دوسرے بھائی کی بیوی کو یہ بول کر ان سے پانچ، پانچ تولہ کے زیورات لے لئے کہ ابھی ہمیں کاروبار میں ضرورت ہے، بعد میں آپ کو بنا کر دیدیں گے اور فروخت کر دیے ، لیکن بعد میں کاروبار میں بجائے نفع کے نقصان ہوا ،اور وہ کاروبار ختم ہو گیا،اب میری بیوی اس سونے کا مطالبہ کرتی ہےکہ وہ پانچ تولہ سونا (زیورات) مجھے واپس کیا جائے، کیا میری بیوی میرے والد صاحب سے مذکور سونا لینے کی حقدار ہے یا نہیں ؟ اگر حقدار ہے تو یہ واپسی سونے کی صورت میں ہونی چاہیئے ، یا رقم کی صورت میں؟ اگر رقم کی صورت میں ہو تو کس حساب سے قیمت کی تعین ہوگی ، سونا فر وخت کرتے وقت یا موجودہ مارکیٹ کے حساب سے ؟وضاحت کریں -
(۳): تیسرا سوال یہ ہے کہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہم تینوں بھائی، ایک مرحوم بھائی کی اولاد اور ایک بہن کے درمیان اپنی جائیداد تقسیم کر کے سب کو اپنے اپنے حصہ پر قابض بھی بنا دیا ، اور کچھ حصہ اپنے لئے اور والدہ صاحبہ کے لئے مختص کیا ہے۔ لیکن میرے چھوٹے بھائی کو مکان میں جو حصہ ملا ہے وہ ڈبل منزل پر مشتمل ہونے کی وجہ سے میرے حصہ کے مقابلہ میں زیادہ قیمتی ہے،اور اسی بھائی کو تقسیمِ جائیداد سے کچھ عرصہ قبل ویزہ کے
لئے تقریباً سوا دو لاکھ روپے بھی دیے تھے،تو کیا از روئے شریعت ہم والد صاحب سے تقسیم جائیداد میں برابری کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ قران و سنت کی روشنی میں وضاحت کر کے ممنون فرمائیں۔
(۱) :صورتِ مسئولہ میں مذکور فروخت شدہ گائے اور اس کا بچہ چونکہ بہو کی ملکیت ہیں، اس لئے اس کی اجازت و رضا مندی کے بغیر سسر کا انہیں فروخت کر دینا درست نہیں، بلکہ یہ بیع بہو کی اجازت پر موقوف ہوگی ،پھر اگر وہ اسے نافذ کر دے، تو ان کے بیچنے سے حاصل ہونے والی رقم بہو کے حوالہ کرنا لازم ہے، اور یہ اسی کا حق ہے۔ سسر کا اپنے لئے جواز کا مذکور حیلہ محض فاسد ہے، جس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں۔
(۲): جب یہ زیورات بطورِ قرض دیے گئے تھے ،تو اس صورت میں بہو کا مذکور مطالبہ جائز ہے اور لینے والے پر ان زیورات کو لوٹانا یا ان کی موجودہ قیمت ادا کرنا لازم ہے۔
(۳) :واضح ہو کہ دورانِ حیات اپنی جائیداد کو تقسیم کرنا بطور ہبہ ہوتا ہے ،اور ہر شخص اپنے مال میں اپنی رضا مندی سے تصرف کرنے کا مختار ہوتا ہے ۔ لہٰذا سائل کے والد کا مذکور طریقہ سے تقسیم کرنا درست ہے ، اس میں سائل یا کسی بیٹے وغیرہ کو اعتراض کرنے کا حق نہیں۔ بشرطیکہ والد کا مذکور عمل کسی مخصوص وارث کو ضرر یا نقصان پہنچانے کی غرض سے نہ ہو،
ففي الدر المختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته اھ (6/ 200) ۔
في حاشية ابن عابدين: تحت (قوله بل وصف للذمة إلخ) ولهذا قيل إن الديون تقضى بأمثالها اھ (3/ 848)۔
في شرح المجلة: ولكل واحد منهم أن يتصرف في حصته كيف ما شاء اھ (۱/ ۶۴۳ ) ۔
وفي الفتاوى الهندية: وأما ما يرجع إلى الواهب فهو أن يكون الواهب من أهل الهبة وكونه من أهلها أن يكون حرا عاقلا بالغا مالكا للموهوب اھ (4/ 374)۔
وفيها ایضا: الفتاوى الهندية: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار اھ (4/ 391)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1