جناب محترم مفتی صاحب! السلام علیکم
عرض یہ ہے کہ میرا نام مقصود اقبال ہے، میں ایک صنعت کار ہوں، اس کے علاوہ میں رئیل اسٹیٹ کا کام بھی کرتا ہوں، مجھے مجبوری کے تحت چند مسائل کا سامنا ہے،میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ملک میں دیوبند علماءِ کرام کی جماعتیں ہیں،اور وہ دونوں ہی باعمل اور بڑی بڑی شخصیتوں پر مشتمل ہیں،ان علماءِ کرام کی ایک جماعت کئی سالوں کی شرعی تحقیق کے بعد اسلامک بینکاری کو جائز قرار دیتی ہے،اور علماءِ کرام کی دوسری جماعت اس کی مخالفت کرتی ہے، ہمارے لئے دونوں علماءِ کرام کی جماعتیں قابل عزت واحترام ہیں، تو آپ سے گذارش ہے کہ میری راہ نمائی فرمائیں کہ دونوں جماعتوں میں سے کس کی بات مانی جائے؟ جبکہ بینکنگ ہمارے معاشرے کی اہم ضرورت بن گئی ہے۔
مذکور بینکوں کے اصل فارمولے جو علماءِ کرام نے دیے ہیں، وہ اگرچہ بلاشبہ درست ہیں، مگر ان میں کام کرنے والے افراد عموماً شرعی معاملات سے بخوبی واقف نہیں ہوتے، اس لئے وہ اکثر معاملات سودی معاملات کی طرح انجام دے جاتے ہیں، اس صورتِ حال میں اصل فارمولے کو دیکھتے ہوئے اگر بینک کے ساتھ معاملہ کرنا واقعی مجبوری ہو تو ان کے ساتھ معاملات کرنے کی گنجائش ہے ، جبکہ کسی قسم کے اشکال کی صورت میں اہلِ علم سے مراجعت کی جا سکتی ہے، اور اگر بینک سے کام کرنا مجبوری نہ ہو تو احتیاط یہ ہے کہ ان کے ساتھ معاملات کرنے سے بھی اجتناب کیا جائے، اور بینکوں سے ہٹ کر ہی معاملات انجام دیے جائیں،اور علماء کی دونوں جماعتوں کے اختلاف کا حاصل بھی تقریباً یہی ہے کہ ایک احتیاط کے پہلو کو لیے ہوئے ہے، اور دوسری گنجائش کے پہلو کو ۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0