کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک دوائی بنانے والی کمپنی میں کام کرتا ہوں، کمپنی جب کوئی دوا تیار کرتی ہے، تو ہم اس کو ڈاکٹروں کے پاس لے جاتے ہیں ،اور تعارف وغیرہ کروا کر کچھ گفٹ کے ساتھ دوائی کے سیمپل بھی دیدیتے ہیں ،اور ڈاکٹر سے یہ بات طے کرتے ہیں کہ اگر آپ ہماری کمپنی کی اس دوا کو کچھ مریضوں کیلئے تجویز کرو گے ،اور آپکے واسطے سے اگر ایک لاکھ روپے کی ہم سے خریداری ہو جائے، تو ہم آپ کو دس ہزار روپے دیدیں گے، بسا اوقات ڈاکٹر حضرات اس دس ہزار روپے کے حصول کیلئے مریضوں کیلئے بلا ضرورت بھی ہماری کمپنی کی دوا تجویز کرتے ہیں،تاکہ ایک لاکھ تک خریداری ہو سکے، اور ان کو نفع مل سکے،اور ڈاکٹر اپنے اس نفع کے ہی حصول کیلئے اسی کمپنی کی دوا تجویز کرتے ہیں ،جب کہ یہ دوا دوسری کمپنیوں کی بھی ہوتی ہیں ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کمپنی کا ڈاکٹروں کے ساتھ مذکور معاہدہ کرنا شرعاً درست ہے ؟اور اس کے نتیجہ میں ہمیں جو کمیشن ملتا ہے وہ حلال ہے ؟
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کمپنی کے ہر ملازم کیلئے علاقے مخصوص ہوتے ہیں ،وہ اسی علاقے کے ڈاکٹروں کے پاس دوا لے جاتے ہیں، لیکن چونکہ مختلف کمپنیاں ڈاکٹروں کو خاص قسم کے اوفر کرتی رہتی ہیں، اس لئے بعض دفعہ کسی ڈاکٹر کا کسی کمپنی کے ساتھ پہلے سے معاملات طے ہونے کی وجہ کمپنی کی دوائی مریضوں کیلئے تجویز نہیں کرتا، اور دوسری کمپنی کی دوا وہاں فروخت نہیں ہوتی، اس لئے کمپنی کے ذمہ داران حضرات اس علاقے کے ڈاکٹروں سے براہِ راست معاہدہ کرتے ہیں، جو ان کو مثلاً مذکور تفصیل کے مطابق دس ہزار روپے نفع کا اوفر کرتے ہیں، اور ڈاکٹرز یہ اوفر قبول کرتے ہیں ،اور اس کمپنی کی دوائی مریضوں کیلئے تجویز کرنا شروع کرتے ہیں ،اس کے نتیجہ میں سیل زیادہ ہوتا ہے، اور اس علاقے کیلئے متعین کمپنی کے ملازم کیلئے اسی سے کمیشن ملتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کمپنی کا ڈاکٹروں کے ساتھ یہ معاملہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور اسی طرح اس علاقے میں متعین کمپنی کے ملازم کو ملنے والا کمیشن حلال ہے یا نہیں ؟ اور میں نے اب تک اس طرح ڈاکٹروں کے ساتھ معاہدہ کر کے نتیجہ میں کوئی کمیشن وصول نہیں کیا، البتہ جو دوائی خود میری کوشش اور محنت سے بکتی تھی اس پر میں نے کمپنی سے کمیشن کی رقم وصول کر کے استعمال کر چکا ہوں، لیکن اسکے بارے میں مجھے یقینی علم نہیں ہےکہ وہ میں نے جو دوائی بیچی ہے ،اسی پر کمیشن ہے یا کمپنی نے ڈاکٹروں کے ساتھ معاہدہ کرکے جو کمیشن لیتی ہے ،اس میں سے بھی کچھ اس میں شامل ہے، جبکہ کمپنی والے کہتے ہیں کہ اس میں وہ معاهده والا کمیشن شامل نہیں۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔
کسی کمپنی کا اپنی دواؤں کے فروخت اور ان کی تشہیر کے لئے ملازمین مقررکرنا اور انہیں کمیشن دینا، اسی طرح جو ڈاکٹر جائز طریقے سے دواؤں کی فروخت میں ان کی معاونت کرے، تو ایک مخصوص مقدار پر طے شدہ رقم اسے دینا اور ڈاکٹر کا اسے لینا شرعاً بھی جائز ہے ، مگر مریض کا معاینہ کرنے کے بعد اس کے حق میں دوسری دوا زیادہ کارآمد اور مفید ہونے کے باوجود اس کیلئے محض حصول کمیشن کی غرض سے وہی تجویز کرنا اپنے پیشے کے ساتھ خیانت اور مریض کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔ اور اس پر مذکور کمیشن وصول کرنا قطعا نا جائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے ۔
في سنن الترمذي: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، (إلی قوله) ثم قال: «من غش فليس منا» (3/ 598)-
وفي حاشية ابن عابدين: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به اھ (6/ 63) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1