السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد محترم نے ایک مکان خریدا ہے، اس کی قیمت ایک کروڑ پندرہ لاکھ ہے ،اور قیمت کی ادائیگی تین لاکھ ماہوار قسط کی صورت میں طے پائی، اس وقت سولہ ماہ کی قسط یعنی مبلغ ۲۸ لاکھ باقی ہے ،اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب کے ذمہ تقریبا ۶۰ لاکھ بنک کا سودی قرضہ بھی ہے۔
اب پو چھنا یہ ہے کہ کیا ہم مکان کی ماہوار قسط روک کر مالک مکان کو اس کی رضا مندی سے ماہوار کرایہ دیتے رہیں ،اور پہلے بینک کے قرضے کو ادا کریں تو آیا کرایہ دینا جائز ہوگا، یا سود کے وبال سے جلد چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اس کرنے والے معاملے کی گنجائش ہو سکتی ہے؟
مذکور طریقے سے اپنے خریدے ہوئے مکان کا کرایہ ادا کرنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اس کے لیے یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ مکان بیچنے والا متعلقہ مدت تک احسا ن کا معاملہ کرتے ہوئے جو قسط لے رہا ہے، اس کی مقدار کم کر دے، ورنہ یہ مکان آگے کسی دوسرے پر بیچ کر دونوں قسم کے قرضوں کی ادائیگی کی جائے۔ اور پھر جب اللہ تعالی طاقت دے تو کم قیمت والا مکان خرید کر اس میں گزارہ کیا جائے، تاہم مذکور مکان کو اپنے پاس رکھنا اگر کسی بھی مبجوری کے تحت لازم ہو تو اس سلسلے میں یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ مکان کی مد میں ادا شدہ مکمل قیمت واپس لے کر مکان اسے واپس کر دیا جائے اور اس معاملے کو بالکلیہ ختم کیا جائے پھر اس کے بعد اگر دوبارہ معاملہ کرنا ہو تو مکان کی موجودہ مالیت کے اعتبار سے اس کے شیئرز بنا دیئے جائیں پھر جتنی رقم کا بآسانی انتظام ہو سکے اس کے عوض مکان کے جتنے شیئرز آتے ہوں وہ خرید لیے جائیں اور بقیہ شیئرز مالک کی ملکیت میں رہیں، اسی طرح یہ دونوں فریقوں کے درمیان مشترک تصور ہوگا، پھر اس میں اگر رہائش مقصود ہو تو اس کا حصہ کرائے پر لے لیں، پھر اگر مزید شیئرز خریدنے ہوں تو باہمی فریقین کی مرضی سے مزید شیئرز کی بیع بھی کی جا سکتی ہے۔ اس طرح جتنے شیئرز کم ہوتے جائیں اس کے تناسب سے کرایہ بھی کم کر دیا جائے۔چنانچہ اس طرح معاملہ کرنے کے نتیجے میں مشقت بھی نہیں ہوگی اور مکان بھی حاصل ہوجائے گا۔ اس صورت میں مالک کو اختیار ہو گا کہ جتنے کا بھی چاہے اپنا حصہ فروخت کرے۔
كمافي الفتاوى الهندية: وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا اھ (3/ 3)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: ونحوه في فتاوى ابن نجيم) أي في كتاب البيع حيث أفتى بأنه لو باع أحد الشريكين في البناء حصته لأجنبي لا يجوز ولشريكه جاز اھ (4/ 300) والله اعلم!۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1