کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے عمرو پر اپنی زمین فروخت کی اور عمرو سے مکمل طور پر زمین پر قبضہ کر لیا، اب ایسی زمین کے اندر کچھ معدنیات نکلیں ،مثلاً کوئلہ وغیرہ اب یہ معدنیات کس کے حق میں جائیں گی ؟ قرآن و حدیث کے روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
کوئلہ وغیرہ معدنیات زمین کا حصہ اور جزء شمار ہوتے ہیں، اس لئے خریدار کا مکمل قبضہ ہو جانے کے بعد جو معدنیات نکلیں ،یہ اس کی ملک کہلائیں گی، بیچنے والے کا اس پر دعویٰ کرنا درست نہیں۔
ففي بدائع الصنائع: فأما إذا وجده في أرض مملوكة أو دار أو منزل أو حانوت فلا خلاف في أن الأربعة الأخماس لصاحب الملك وجده هو أو غيره لأن المعدن من توابع الأرض لأنه من أجزائها خلق فيها ومنها اھ (2/ 67)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1